انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 596 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 596

اس مثال سے آپؐ کا تحمل پہلی مثال سے بھی زیا دہ ظا ہر ہو تا ہےپہلی مثال سے تو یہ ظاہر ہو تا تھا کہ آپؐ کے پاس کچھ تھا نہیں اور کچھ سا ئل آپؐ سے بار بار انعام طلب کر تے تھے اور جبکہ آپؐ انکار فر ما رہے تھے کہ میرے پاس کچھ نہیں اور وہ لینے پر مصر تھے۔ان لوگوں کا آپؐ پر زور کر نا سمجھ میں آسکتا ہے اور خیال ہو سکتا ہےکہ چو نکہ وہ لوگ سخت محتاج تھے اور ان کی حالتِ زار تھی۔اور نا امیدی میں انسان کے حواس ٹھکانے نہیں رہتے اس لیے ان کی زیادتی پر آپؐ جیسے رحیم انسان کا تحمل کر نا کچھ تعجبات سے نہ تھا لیکن دوسرا واقعہ اس واقعہ سے بہت زیادہ آپؐ کے تحمل پر روشنی ڈالتا ہے کیونکہ اس شخص نے بغیر سوال کے آپؐ پر حملہ کر دیا اور اس حملہ کی کو ئی وجہ نہ تھی نہ اس نے سوال کیا تھا نہ آ پؐ نےانکار فر ما یا تھا نہ اسے کو ئی نا امید ی پیش آئی تھی۔مال سامنے موجود تھا آپؐ دینے کو تیار تھے پھر بلا وجہ اس طرح گستا خی سے پیش آنا ایک نہایت ہی نا شائستہ حرکت تھی اور اس کے سوال پر اسے ڈانٹنا چاہیے تھا۔اور پھر اس نے جو طریق اختیار کیا تھا وہ صرف گستاخانہ ہی نہ تھا کہ یہ خیال کر لیا جا تا کہ چلو اس سے کو ئی حقیقی نقصان تو ہوا نہیں جا ہل آدمی ہے اور جنگلی ہے اور آدابِ رسولؐ سے نا واقف ہے۔اسےمعاف ہی کر دینا بہتر ہو گا بلکہ وہ ایذا رسانی کا طریق تھا اور اس کی اس حرکت سےآنحضرت ﷺ کو سخت تکلیف بھی پہنچی اور گر دن مبا رک پر خراش بھی ہو گئی بلکہ اس حدیث کو حمام نے اس طرح روایت کیا ہےکہ چادر پھٹ گئی اور اس کا حاشیہ چمڑہ کوپھاڑ تا ہوا گوشت تک گھس گیا پس وہ شخص اس بات کا پو رے طور پر مستحق تھا کہ اسے آپؐ سختی سے علیحدہ کر دیتے۔لیکن باوجود ان تمام باتوں کے آپؐ اس سے یہ سلوک فر ما تے ہیں کہ اس کی طرف دیکھ کر مسکرا تے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ اسے بھی ضرور کچھ دے دو۔گو یا مسکرا کر اسےبتا تے ہیں کہ میں تمہارے جیسے نادانوں کو جو آدابِ رسول سے نا واقف ہیں بجائے ڈانٹنے کے قابلِ رحم خیال کر تا ہوں اور بجا ئے ناراضگی کے تمہاری حالت پر مسکرا تا ہوں کہ تم میرے تحمل سے ہی فا ئدہ اٹھاؤ۔کہنے کو سب لوگ تحمل والے بن جا تے ہیں لیکن عمل ہی ایک ایسی چیز ہے جس سے انسان کی حقیقت کھلتی ہے اور اس کے دعاوی کے صدق اور کذب کا حال معلوم ہو تا ہے۔دنیا میں بڑے بڑے بادشاہ گزرے ہیں جو عد ل وانصاف کے لحاظ سے خاص شہرت رکھتے ہیں جو تحمل مزاج مشہورہیں اور جن کے تحمل اور بردباری کے افسانوں سے تاریخوںکے صفحات بھرے ہوئے ہیں۔ان میں سے ایسے بھی ہیں جو مذہبی عزت کے لحاظ سے بھی اپنے زمانہ کے لوگوں میں ممتاز تھے۔اور جو بعد میں