انوارالعلوم (جلد 1) — Page 595
سکتے تھے۔کیونکہ مال کا نہ دینا بخل سےمتعلق ہے۔پس آپؐ نے فرمایا کہ اگر میرے پاس مال ہو تا تو تم مجھے بخیل نہ پا تے یعنی تمہیں معلوم ہو جا تا کہ میں بخیل نہیں کیونکہ میں تمہیں مال دے دیتا اور جھوٹا بھی نہ پا تے۔یہ اس لیے فر ما یا کہ بعض لوگ جھوٹ بول کر سائل سے پیچھا چھڑا لیتے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ ہے نہیں۔پس فر ما یا کہ تمہیں یہ بھی معلوم ہو جا تا کہ میں بخیل نہیں ہوں اور یہ بھی کہ جھوٹا نہیں ہوں کہ جھوٹ بول کر سب مال یا اس کا بعض حصہ اپنے لیے بچالوں اور نہ مجھے بزدل پا تے۔یعنی میرا تمہیں مال دینا اس وجہ سے نہ ہو تا کہ میں تم لوگوں سے ڈر جا تا کہ کہیں مجھے نقصان نہ پہنچاؤ۔لیکن میں جو مال دیتا دل کی خوشی سے دیتا۔شاید کوئی شخص کہے کہ آپؐ کے اتنا کہہ دینے سے کیا بنتا ہےکہ اگر میرے پاس ہو تا تو میں دے دیتا کیا معلوم ہے کہ آپؐ اس وقت دیتے یا نہ دیتے۔مگر یادرکھنا چاہیے کہ ہر سخن وقتے وہر نکتہ مقامے دارد۔میں اس جگہ یہ بتا رہا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کا تحمل کیسا تھا اور کس طرح آپؐ نا پسند اور مکر وہ با تیں سن کر نرمی اور ملائمت سے جواب دیتے تھے۔اور خفگی اور ناراضگی کا اظہار قطعاً نہ فر ما تے بلکہ جہاں تک ممکن ہو تا معترض کو کو ئی نیک بات بتا کر خاموش فرما دیتے۔آپؐ کی سخاوت کا ذکر تو دوسری جگہ ہو گا۔اور اگر کو ئی بہت مصر ہو تو میں آپؐ کے تحمل کی ایسی مثال بھی جس میں ایک طرف آپؐ نے تحمل فر ما یا ہے اور دوسری طرف سخاوت کا اظہار فر ما یا ہے دے سکتا ہوں اور وہ بھی صحیح بخاری سے ہے۔اور وہ یہ کہ انس بن مالکؓ بیان فر ماتے ہیں کہ کُنْتُ اَمْشِیْ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلَیْہِ بُرْدٌ نَجْرَ انِیٌّ غَلِیْظُ الْحَاشِیۃِ فَاَدْرَکَہٗ اَعْرَابِیٌّ فَجَذَ بَہٗ جَذْبَۃً شَدِیْدَ ۃً،حَتّٰی نَظْرْتُ اِلیٰ صَفْحَۃِ عَاتِقِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ اَثَّرَتْ بِہٖ حَاشِیَۃُ الرِّدَآءِ مِنْ شِدَّۃِ جَذْبَتِہٖ۔ثُمَّ قَالَ :مُرْلِیْ مِنْ مَالِ اللّٰہِ الَّذِیْ عِنْدَکَ، فَالْتَفَتَ اِلَیْہِ فَضَحِکَ ،ثُمَّ اَمَرَلَہٗ بِعَطَاءٍ۔(بخاری کتاب الجہاد باب ماکان النبی یعطی المؤ لفۃ قلوبھم)یعنی میں ایک دفعہ آنحضرت ﷺ کے سا تھ چل رہا تھا اور آپؐ نے ایک نجران کی بنی ہو ئی چادراوڑھی ہو ئی تھی جس کے کنارے بہت موٹے تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی آپؐ کے قریب آیا اور آپؐ کو بڑی سختی سے کھینچنے لگا۔یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ اس کے سختی سے کھینچنے کی وجہ سے چادر کی رگڑ کے سا تھ آپؐ کی گر دن پر خراش ہو گئی۔اس کے بعد اس نے کہا کہ آپؐ کے پاس جو مال ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی دلوائیں پس آپؐ نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا اورمسکرا ئے اور فر ما یا کہ اسے کچھ دے دو۔