انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 594 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 594

کہ میرے پاس کچھ نہیں مگر وہ باز نہیں آتے۔پھر اور پھر سوال کر تے ہیں اور باوجود آپؐ کے انکار کے مصر ہیں کہ ہمیںضرور کچھ دلوایا جائے مگر آپؐ باوجود اس شان کے کہ سا رے عرب کو آپؐ کے سامنے گردن جھکا دینی پڑی ان سے کیا سلوک کر تے ہیں ان کے با ر بار کے سوال سے ناراض نہیں ہو تے۔ان پر خفگی کااظہار نہیں کرتے بلکہ ان کو بتاتے ہیں کہ آپؐ کے پاس اس وقت کچھ نہیں ورنہ ضرور ان کو بھی دیتے۔لیکن وہ لوگ پھر بھی مصر ہیں۔ایسا کیوں ہے؟کیا اس لیے نہیں کہ کل دنیا اس بات سے واقف تھی کہ وہ بہادر انسان جو خطرناک جنگوں میں جس وقت اس کے سا تھی بھی پیچھے ہٹ جا تے ہیں اکیلا دشمن کی طرف بڑھتا چلا جا تا ہے۔ایسا متحمل مزاج ہے کہ اپنی حاجتوںکو اس کے پاس جس زورسے بھی پیش کریں گے وہ کبھی ناراض نہیں ہو گا۔بلکہ اس کا جواب محبت سے بھرا ہوا اور شفقت سے مملوء ہو گا۔پھر کیا اس لیے نہیں کہ آپؐ کے اخلاقِ حسنہ اور آپؐ کے حسنِ سلوک کا دنیا میں ایسا شہرہ تھا کہ با دیہ نشین عرب بھی اس بات سے نا واقف نہ تھے کہ ہم جس قدر بھی اصرار کریں گے ہمیں کسی سرزنش کا خطرہ نہ ہوگا۔ضرور یہی بات تھی جس کی وجہ سے وہ عرب آپؐ پر اس قدر زور ڈال رہے تھے۔اور باتوں سے ہی آپؐ سے کچھ وصول نہیں کر نا چاہتے تھے بلکہ جب نا امیدی ہو گئی تو آپؐ کو پکڑ کر اصرارکرنا شروع کیا کہ ہمیں ضرور کچھ دیں۔اور آپؐ ان سے ہٹتے ہٹتےراستہ سے اس قدر دور ہو گئے کہ آخر آپؐ کی چادر کا نٹے دار درختوں میں جا پھنسی۔اور اس وقت آپؐ نے ان کو ان محبت آمیز الفاظ میں ملا مت کی کہ میں انکار بخل کی وجہ سے نہیں کرتا بلکہ اس مجبوری سے کہ میرے پاس اس وقت کچھ نہیں۔اگر میرے پاس کچھ ہو تا تو میں ضرور تم کو دے دیتاحتٰی کہ سامنے کھڑے ہو ئے درختوں کے برابر بھی اگر اونٹ میرے پاس ہوتے تو سب تم کو دے دیتا۔اور ہر گز بخل نہ کر تا نہ جھوٹ بولتا نہ بزدلی دکھا تا۔دنیا کا کو ئی بادشاہ ایسا جواب نہیں دے سکتا وہ جو اپنی عزت اور اپنی بڑا ئی کے طلب گار ہو تے ہیں۔وہ اس قدر تحمل نہیں کر سکتے۔آنحضرت ﷺ کی حیثیت کے انسان کا ایسے موقعہ پر جب آپؐ سے ان اعراب نے اس درشتی سے سلوک کیا تھا مذکورہ با لا جواب دینا اپنی نظیر آپ ہی ہے۔اور دنیا کا کوئی بادشاہ کو ئی حاکم کو ئی سردار اس تحمل کی نظیر نہیں دکھا سکتا۔پھر آپؐ جو جواب دیتے ہیں وہ کیسا لطیف ہے۔فر ما تے ہیں…کہ اگر ان درختوں کے برا بر بھی اونٹ ہو تے تو میں تمہیں دے دیتا۔اور تم مجھے بخیل جھوٹا اور بزدل نہ پاتے۔ایک موٹی نظر والےانسان کو تو شاید یہ تین الفاظ بے ربط معلوم ہوں لیکن دانا انسان سمجھتا ہے کہ یہ تینوں الفاظ جو آپؐ نے فر ما ئے بالکل موقعہ کےمطابق تھے۔اور ان سے بہتر لفظ اَور ہو ہی نہیں