انوارالعلوم (جلد 1) — Page 32
کے اس کو بیٹا قرار دیا گیا ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائیت کی بنیاد کفارہ پر رکھی گئی ہے اور یہی چبوترہ ہے جس پر کہ عیسائیت کا بت رکھا گیا ہے یا یہی وہ مسالہ ہے کہ جس پر عیسائیت کی عمارت کھڑی کی گئی ہے اوراس کفار سے یہ مراد ہے کہ جب بیٹے نے یعنی مسیح نے دیکھا کہ باپ تو بوجہ عدل کے کسی کاگناہ بخش نہیں سکتا اور اتنی مخلوق خواہ مخواہ جہنم میں جاری ہے تو اس نے اپنی قربانی کر کے مخلوقات الٰہی کو گناہ سے بچایا۔لیکن وہ میت کی شکل میں اس دنیامیں ظہور پذیر ہوا اور پھر یہودیوں کے ہاتھ سےسولی دیا جا کر تمام گناہوں کو اپنے سر پر لے گیا اور اب وہ جو کہ اس کے کفارہ پر ایمان لائیں ان کےتمام گناہ بخشے جائیں گے۔اور وہ ان وعدوں کے مستحق ہوں گے جو کہ خدا تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے ساتھ کئے ہیں مگر اس پر غور کرنے کے ساتھ ہی پہلا اعترا ض جو اس پر پڑتا ہے وہ یہ ہےکہ جب خدا بھی قادر مطلق اور بیٹا بھی تو کیا وجہ کہ مسیح نے اپنی قدرت سے تمام لوگوں کو نجات نہ دیدی تو پھر ہم دیکھتے ہیں کہ(یعقوب باب ۲ آیت ۳) میں صاف طور سے لکھا ہے کہ ”رحم عدالت پرغالب ہوتا ہے تو کیوں خدا کو ضرورت پڑی کہ اپنے اکلوتے بیٹے کو قربان کرے اور طاقت کو گناه سے بچائے جبکہ رقم عدالت پر غالب ہے تو کیوں اس نے رحم کر کے لوگوں کو نہیں چھڑا دیا اور کیوں اس نے ان کو جو کہ گناہ گار تھے بخش نہ دیا ؟ اور اگر یہ کہا جائے کہ یعقوب کا قول ہمارے لئے سندنہیں تو یہ ایک نہایت ذلیل عذر ہو گا۔کیونکہ اگر ایسا ہے تو کیوں یعقوب کے خطوط کو بائبل میں جگہ دی گئی ہے اور اگر وہ اس قابل ہیں کہ ان کو ردی کے ٹوکرے میں پھینک دیا جائے تو کیوں اب بھی عیسائی اس سے سند لیتے ہیں۔اگر وہ خطوط غلطی سے بائبل میں درج ہو گئے تھے تو اب ان کو نکالا جاسکتا ہے مگر اس صورت میں بھی ایک بہت بڑی مشکل پیش آوے گی اور وہ یہ کہ مسیح نے اپنے بارہ حواریوں کے لئے تخت کا وعدہ کیا تھا اور اگر چہ وہ پورا نہیں ہوا مگر پھر بھی عیسائیوں نے تخت سےمراد آسمانی تخت لے کر کسی قدر اپنا پیچھا چھڑایا تھا اور اب جبکہ یعقوب کے خطوں کو بھی خلاف ارشاد حضرت عیسئی تصور کیا جائے گا تو لازم ہو گا کہ لیعقوب کو بھی ایک بد گو اور جھوٹا انسان سمجھا جائے اور اس صورت میں دو حواری روحانی تختوں سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ایک تو یعقوب دوسرے یہودا اسکریوتی جس نے تیسں روپے لے کر اپنے استاد یسوع کو دشمنوں کے حوالے کر دیا اوراس روحانی تخت سے محروم رہا جس کا اس سے وعدہ کیا گیا تھا۔اور اب جبکہ دو حواری آسانی تحت سے محروم کئے جائیں گے تو معلوم نہیں کہ عیسائیوں