انوارالعلوم (جلد 1) — Page 580
دیا جس سے وہ آئندہ کے لیے اس سے باز آجائیں۔یعنی جب بعض لو گوں نے اس سےکہا کہ سمندر بھی تیرے ماتحت ہے تو اس نے ان پر ثابت کر دیاکہ سمندر اس کا حکم نہیںمانتا۔مگر یادرکھنا چاہیے کہ وہ ایک دنیاوی بادشاہ تھا اور روحانی بادشاہت سے اس کا کو ئی تعلق نہ تھا نہ اسے رو حانی حکومت و تصرف کا ادعاء تھا۔پس اگر ایک ایسی بات کا اس نے انکار کر دیا جو اس کے اپنے را ہ سے علیحدہ تھی تو یہ کچھ بڑی بات نہ تھی۔اسی طرح دیگر لو گ جو جھوٹی مدح سے متنفر ہوتے ہیں ان کے حالات میں بھی بہت کچھ فرق ہے۔آنحضرتؐ ایک ایسی قوم میں تھے جو سر تسلیم جھکانے کے لیے صرف ایک ایسے شخص کے آگے تیار ہو سکتی تھی جو اپنی طاقت سے بڑھ کر طا قت رکھتا ہو کیونکہ اس کی رگ رگ میں حریت اور آزادی کا خون دوڑ رہا تھا پس اس کے سامنے اپنے آپ کو معمولی انسانوں کی طرح پیش کرنا بلکہ اگر ان میں سے کو ئی آپ کی ایسی تعریف بھی کرے جو وہ اپنے بڑوں کی نسبت کرنے کے عادی تھے تو اسے روک دینا یہ ایک ایسا فعل تھا جس سے ایک اوسط درجہ کاانسان گھبرا جا تا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کے بغیر میراگزارہ کیونکر ہو گا۔دوم آپؐ کو دعویٰ تھا نبوت کا اور نبوت میں آئندہ خبریںدینا ایک ضروری امر ہے پس یہ تعریف خود آپؐ کے کام کی نسبت تھی گو مبالغہ سے اسے اور کا اور رنگ دے دیا گیا تھا۔پس آپؐ کا اس تعریف سے انکار کر نا دوسرے لو گوں سے بالکل ممتاز ہے اور آپؐ کے نیک نمونہ سے کسی اور انسان کا نمونہ خواہ وہ انبیاءمیں سے ہی کیوں نہ ہو قطعا ًنہیں مل سکتا۔اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ آپؐ کس طرح حریت پیدا کر نی چاہتے تھے۔اس قسم کے خیالات اگر پھیلا ئے جا تے اور آپ ؐ ان کے پھیلا ئے جا نے کی اجازت دے دیتے تو مسلمانوں میں شرک ضرور پھیل جا تا مگر ہمارا رسولؐ تو شرک کا نہایت خطر نا ک دشمن تھا وہ کب اس بات کو پسند فر ما سکتا تھا کہ ایسی با تیں مشہور کی جا ئیں جو واقعات کے خلاف ہیں اور جن سے دنیا میں شرک پھیلتا ہے پس اس نے جو نہی ایسے کلمات سنے کہ جن سے شرک کی بو آتی تھی فوراً ان سے روک دیا اور اس طرح بنی نوع انسان کو ذہنی غلامی سے بچا لیا اور حریت کے ایک ایسے ارفع اسٹیج پر کھڑا کر دیا جہاںغلامی کی زہریلی ہواؤں کا پہنچنا نا ممکن ہو جا تا ہے۔اے سوچنے والو !سوچو تو سہی کہ اگر آنحضرتؐ کو دنیا کی عزت اور رتبہ منظور تھا اور آپؐ کا سب کا م دنیاوی جاہ و جلال حاصل کر نے کے لیے تھا توآپؐ کے لیے کیا مناسب تھا۔کیا یہ کہ لوگوں میں اپنی عزت و شان کے بڑھانے کے لیے باتیں مشہور کراتے یا کہ معتقدین کو ایسا کر نے سے روکتے۔کیا وہ لوگ جو اپنی خواہش اور آرزو کے ماتحت دنیامیں