انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 578 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 578

علم ِغیب سے انکاراب میں آنحضرت ﷺ کے اخلاق کے ایک اَور پہلو پر رو شنی ڈالتا ہوں جس سے معلوم ہو جا ئے گا کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے کیسا مطہر پید اکیا۔بادشاہوں کے دربا روں اور رؤساء کی مجالس میں بیٹھنے والے جانتے ہیں کہ ان مقامات میںبے جا تعریف اور جھوٹی مدح کا بازار کیسا گرم رہتا ہے اور کس طرح درباری اور ہم مجلس رؤساء کی تعریف اور مدح میں آسمان اور زمین کے قلا بے ملاتے ہیںاور وہ ان کو سن سن کر خوش اور شاداں ہو تے ہیں۔ایشیائی شاعری کا تو دارو مدارہی عشقیہ غزلوں اور امراء کی مدح سرا ئی پر ہے۔شا عر اپنے قصیدہ میں جس امیر کی مدح کی طرف متوجہ ہو جا تا ہے دنیا کی ہر ایک خوبی اس کی طرف منسوب کر دیتا ہے اور واقعات اور حقیقت سے اسے کو ئی غرض نہیں ہو تی جس قدر ممکن ہو جھو ٹ بو لتا ہےاور تعریف کا کو ئی شعبہ اٹھا نہیںرکھتا۔ہر ایک رنگ سے اس کی بڑا ئی بیان کر تا ہے اور اس کا دل خوب جانتا ہے کہ میرے بیان میںسوواں حصہ بھی صداقت نہیں۔سننے والے بھی جا نتے ہیںکہ محض بکواس کر رہا ہے مگر وہ جب اس امیر یا بادشاہ کی مجلس یا دربارمیںاپنا قصیدہ پڑھ کر سناتا ہے تو ہر ایک شعر پر اپنی داد کا خواہاں ہو تا ہے اور سننے والے جو اس کی دروغ گو ئی سے اچھی طرح واقف ہو تے ہیں قصیدہ کے ایک ایک مصرع پر ایک دوسرے سے بڑھ بڑھ کر داد دیتے اور تعریف کر تے ہیں کہ سبحان اللہ کیا خوب کہا اور خود وہ امیر جس کی شا ن میں وہ قصیدہ کہا جاتا ہے باوجود اس علم کے کہ مجھ میں و ہ باتیں ہر گز نہیں پا ئی جا تیں جو شاعر نے اپنے قصیدہ میں بیان کی ہیں۔ایک ایک شعر پر اسے انعام دیتا اور اپنی ذات پر نا ز و فخر کر تا ہے حالانکہ قصیدہ کہنے والا ، سننے والا اور جس کے حق میں کہا گیا ہے۔سب کے سب واقعات سے نا واقف نہیں ہو تے اور ہر ایک جا نتا ہے کہ قصیدہ میں جو مضا مین بیان کیے گئے ہیں ان میں ایک شمّہ بھر بھی صداقت وراستی نہیں۔امرا ءکی قید کیا ہے عام طور پر ہر ایک انسان کایہی حال ہے (اِلَّا مَاشَاءَ اللّٰہ)کہ وہ اپنی تعریف سن کر خوش ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ میری مدح کی جا ئے اور جب کو ئی اس کی نسبت جھوٹی مدح سے بھی کا م لیتا ہے تو اس کے اندر یہ جرأت نہیں ہو تی کہ اس کا انکار کر سکے بلکہ سکوت کو ہی پسند کر لیتا ہے۔مگر ہما رے آنحضرت ؐ فداہ ابی و امّی ایسے بر گزیدہ اور پا ک و مطہر انسا ن تھے کہ آپؐ ان کمزوریوں سے بالکل پاک تھے۔اور اگر ایک طر ف ہر قسم کی خو بیوں کے جا مع اور نیکیوں کے خازن تھے تو دوسری طرف آپؐ یہ بھی کبھی پسند نہ فر ما تے تھےکہ کو ئی شخص آپؐ کی نسبت کو ئی ایسی بات بیان کرے جو درحقیقت آپؐ میں نہیں پا ئی جا تی۔