انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 563 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 563

علاوہ اس کے کہ آپ کے اردگرد بادشاہوں کی زندگی کا جو نمونہ تھا وہ ایسا نہ تھا کہ اس سے آپ وہ تأثّر حاصل کرتے جن کا اظہار آپ کے اعمال کرتے ہیں۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا درجہ دے دیا تھا کہ اب آپ تمام مخلوقات کے مرجعِ افکار ہو گئے تھے اور ایک طرف روم آپ کی بڑھتی ہوئی طاقت کو اور دوسری طرف ایران آپ کے ترقی کرنے والے اقبال کو شک و شبہ کی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اور دونوں متفکر تھے کہ اس سیلاب کو روکنے کے لیے کیا تدبیر اختیار کی جائے اس لیے دونوں حکومتوں کے آدمی آپ کے پاس آتے جاتے تھے اور ان کے ساتھ خط و کتابت کا سلسلہ شروع تھا ایسی صورت میں بظاہر ان لوگوں پر رعب قائم کرنے کے لیے ضروری تھا کہ آپ بھی اپنے ساتھ ایک جماعت غلاموں کی رکھتے اور اپنی حالت ایسی بناتے جس سے وہ لوگ متأثر اور مرعوب ہوتے مگر آپ نے کبھی ایسا نہ کیا۔غلاموں کی جماعت تو الگ رہی گھر کے کام کاج کے لیے بھی کوئی نوکر نہ رکھا اور خود ہی سب کام کر لیتے تھے۔حضرت عائشہؓ کی نسبت لکھا ہے کہ اَنَّھَا سُئِلَتۡ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَسَلَّمَ مَا کَان یَصۡنَعُ فِیْ بَیۡتِہٖ قَالَتۡ کَانَ یَکُوْنُ فِیْ مِہۡنَۃِ أَہۡلِہٖ تَعۡنِیْ فیْ خِدۡمَۃِ أَہۡلِہٖ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ خَرَجَ إِلَی الصَّلَاۃِ(بخاری کتاب الصلوة باب من کان فی حاجة اھلہ فاقیمت الصلوة فخرج) یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے سوال کیا گیا کہ نبی کریم ﷺ کیا کرتے تھے؟ آپؓ نے جواب دیا کہ آپ اپنے اہل کی محنت کرتے تھے۔یعنی خدمت کرتے تھے۔پس جب نماز کا وقت آ جاتا آپ نماز کے لیے باہر چلے جاتے تھے۔اس حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کس سادگی کی زندگی بسر فرماتے تھے اور بادشاہت کے باوجود آپ کے گھر کا کام کاج کرنے والا کوئی نوکر نہ ہوتا بلکہ آپ اپنے خالی اوقات میں خود ہی اپنی ازواجِ مطہرات کے ساتھ مل کر گھر کا کام کاج کروا دیتے۔اللہ اللہ! کیسی سادہ زندگی ہے۔کیا بینظیر نمونہ ہے۔کیا کوئی انسان بھی ایسا پیش کیا جا سکتا ہے جس نے بادشاہ ہو کر یہ نمونہ دکھایا ہو کہ اپنے گھر کے کام کے لیے ایک نوکر بھی نہ ہو۔اگر کسی نے دکھایا ہے تو وہ بھی آپ کے خدام میں سے ہو گا۔کسی دوسرے بادشاہ نے جو آپ کی غلامی کا فخر نہ رکھتا ہو یہ نمونہ کبھی نہیں دکھایا۔ایسے بھی مل جائیں گے جنہوں نے دنیا سے ڈر کر اسے چھوڑ ہی دیا۔ایسے بھی ہوں گے جو دنیا میں پڑے اور اسی کے ہو گئے۔مگر یہ نمونہ کہ دنیا کی اصلاح کے لیے اس کا بوجھ اپنے کندھوں پر بھی اٹھائے رکھا اور ملکوں کے انتظام کی باگ اپنے ہاتھ میں رکھی مگر پھر بھی اس سے الگ رہے اور اس سے محبت نہ کی