انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 560

نہیں رہی۔اور گو پاس ڈھول بھی بجتے رہیں تو ہمیںکچھ خیال نہیں آتا۔مگر آنحضرت ﷺان تکلفات سے بَری تھے۔آپ کی عظمت خدا کی دی ہوئی تھی نہ کہ انسانوں نے آپ کو معزز بنایا تھا۔یہ خیال وہی کر سکتے ہیں جو انسانوں کو اپنا عزت دینے والا سمجھتے ہوں۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ اَنَّہٗ سُئِلَ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّیْ فِیْ نَعۡلَیۡہِ ؟قَالَ نَعَمۡ یعنی آپ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جوتیوں سمیت نماز پڑھ لیا کرتے تھے؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں پڑھ لیتے تھے۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کس طرح تکلفات سے بچتے تھے۔اب وہ زمانہ آ گیا ہے کہ وہ مسلمان جو ایمان اور اسلام سے بھی ناواقف ہیں اگر کسی کو اپنی جُوتیوں سمیت نماز پڑھتے دیکھ لیں تو شور مچا دیں اور جب تک کوئی ان کے خیال کے مطابق کُل شرائط کو پورا نہ کرے وہ دیکھ بھی نہیں سکتے مگر آنحضرت ﷺجو ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہیں آپ کا یہ طریق نہ تھا بلکہ آپؐ واقعات کو دیکھتے تھے نہ تکلفات کے پابند تھے۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے طہارت اور پاکیزگی شرط ہے اور یہ بات قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے۔پس جب جوتی پاک ہو اور عام جگہوں پر جہاں نجاست کے لگنے کا خطرہ ہو پہن کر نہ گئے ہوں تو اس میں ضرورت کے وقت نماز پڑھنے میں کچھ حرج نہیں۔اور آپ نے ایسا کر کے امتِ محمدیہ پر ایک بہت بڑا احسان کیا کہ انہیں آئندہ کے لیے تکلفات اور بناوٹ سے بچا لیا۔اس اسوۂ حسنہ سے اُن لوگوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے جو آج کل ان باتوں پر جھگڑتے ہیں اور تکلفات کے شیدا ہیں۔جس فعل سے عظمتِ الٰہی اور تقویٰ میں فرق نہ آئے اس کے کرنے پر انسان کی بزرگی میں فرق نہیں آ سکتا۔حضرت ابن مسعود انصاریؓ سے روایت ہے قَالَ کَانَ رَجُلٌ مِنَ الۡأَنۡصَارِ یُقَالُ لَہٗ أَبُوْ شُعَیۡبٍ وَکَانَ لَہٗ غُلَامٌ لَحَّامٌ فَقَالَ اصۡنَعۡ لِیْ طَعَامًا أَدۡعُوْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمۡسَۃٍ فَدَعَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمۡسَۃٍ فَتَبِعَہُمۡ رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَسَلَّمَ إِنَّکَ دَعَوۡتَنَا خَامِسَ خَمۡسَۃٍ وَہٰذَا رَجُلٌ قَدۡ تَبِعَنَا فَإِنۡ شِئۡتَ أَذِنۡتَ لَہٗ وَإِنۡ شِئۡتَ تَرَکۡتَہٗ قَالَ بَلۡ أَذِنۡتُ لَہٗ آپ نے فرمایا کہ ایک شخص انصار میں تھا۔اس کا نام ابو شعیب تھا اور اس کا ایک غلام تھا جو قصائی کا پیشہ کرتا تھا۔اسے اس نے حکم دیا کہ تُو میرے لیے کھانا تیار کر کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چار اور آدمیوں سمیت کھانے کے لیے بلاؤں گا۔پھر اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم