انوارالعلوم (جلد 1) — Page 553
اسلام سکھائیں اور قرآن شریف پڑھائیں۔ان صحابہ ؓ کا عامر بن عاصم رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا۔جب یہ لوگ صحابہؓ کو لے کر چلے تو راستہ میں ان سے شرارت کی اور عہد شکنی کرکے ہذیل قبیلہ کے لوگوں کو اکسایا کہ انہیں پکڑلیں۔انہوں نے ایک سو آدمی ان چھ آدمیوں کے مقابلہ میں بھیجا۔صحابہ ایک پہاڑ پر چڑھ گئے۔کفارنے ان سے کہا کہ وہ اترآئیں وہ انہیں کچھ نہ کہیں گے۔حضرت عامر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ انہیں کافروں کے عہد پر اعتبار نہیں وہ نہیں اتریں گے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ہماری حالت کی رسول اللہ ؐ کو خبر دے۔مگر چھ میں سے تین آدمی کفار پر اعتبار کرکے اتر آئے۔مگر جب انہوں نے ان کے ہاتھ باندھنے چا ہے تو ایک صحابی ؓ نے انکار کر دیا کہ یہ تو خلاف معاہدہ ہے مگر وہاں معاہدہ کون سنتا تھا اس صحابی ؓ کو قتل کر دیا گیا با قی دو میں سے ایک کو صفوان بن امیہ نے جو مکہ کا ایک رئیس تھا خرید لیا اور اپنا غلام کر کے نسطاس کے سا تھ بھیجا کہ حرم سے با ہر اس کے دو بیٹوں کے بدلہ قتل کر دے۔نسطاس نے قتل کرنے سے پہلے ابن الدثنہ رضی اللہ عنہ (اس صحا بی) سے پو چھا کہ تجھے خدا کی قسم سچ بتا کہ کیا تیرا دل چاہتا ہے کہ تمہارا رسول اس وقت یہاں ہمارے ہا تھ میں ہو اور ہم اسے قتل کریں اور تو آرام سے اپنے گھر میں اپنے بیوی بچوں میں بیٹھا ہو۔ابن الدثنہ رضی اللہ عنہٗ نے جواب دیا کہ میں تو یہ بھی پسند نہیں کر تا کہ محمد (ﷺ) وہاں ہوں جہاں اب ہیں (یعنی مدینہ میں) اور ان کے پاؤں میںکو ئی کانٹا چبھے اورمیں گھر میں بیٹھا ہؤا ہوں۔اس بات کو سن کر ابوسفیان جو اس وقت تک اسلام نہ لا یا تھا وہ بھی متاثر ہو گیا اور کہا کہ میں نے کسی کو کسی سے اتنی محبت کر تے ہو ئے نہیں دیکھا جتنی محمد(ﷺ) کے صحابی محمد(ﷺ) سے محبت کر تے تھے۔یہ وہ اخلاص تھا جو صحابہ ؓ کو آنحضرت ﷺ سے تھا اور یہی وہ اخلاص تھا جس نے انہیں ایمان کے ہر ایک شعبہ میں پا س کرا دیا تھا اور انہوں نے خدا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا۔اے احمدی جماعت کے مخلصو! تم بھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک رسول کریمؐ اور پھر مأمورِ وقت مسیحِ موعوؑد سے ایسی ہی محبت نہ رکھو۔آنحضرتﷺ کی دعاجیساکہ میں بیان کر چکا ہوں آنحضرت ﷺ ہر معاملے میںنہایت حزم اور احتیاط سے کام لیتے تھے۔اب میں ایک حدیث نقل کرکے بتا نا چاہتا ہوں کہ آپؐ دعا میں بھی نہایت محتاط تھے اور کبھی ایسی دعا نہ کر تے جو یک طرفہ ہو بلکہ ایسی ہی دعا کر تے جس میں تمام پہلو مد نظر رکھے جا ئیں جیسا کہ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ کَانَ اَکْثَرُ دُعَاءِ النَّبِیِّ