انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 551 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 551

اس جگہ یہ با ت یا درکھنے کے قابل ہے کہ آنحضرتؐ جس قبیلہ میں پلے تھے اور جس میں سے آپ کی دا ئی تھیں وہ ہوازن کی ہی ایک شاخ تھی۔پس ایک لحاظ سے ہواز ن کے قبیلہ والے آپؐ کے رشتہ دار تھے اور ان سے رضاعت کا تعلق تھا چنانچہ جب وفد ہوازن آنحضرت ؐکی خدمت میں پیش ہوا تو اس میں سے ابو بر قان اسعدی (آنحضرت ؐکی دائی حلیمہ سعد قبیلہ میں سے ہی تھیں)نے آپ ؐ کی خد مت میں عرض کیا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنْ فِیْ ھٰذِہِ الْحَظَا ئِرِ اِلَّا اُمَّھَا تُکَ وَخَالَا تُکَ وَحَوَاضِنُکَ وَمُرْ ضِعَا تُکَ فَامْنُنْ عَلَیْنَا مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکَ۔یا رسول اللہ ان احاطوں کے اندر حضورکی ما ئیں اور خالہ اور کھلا یاں اور دودھ پلائیاں ہی ہیں اور تو کو ئی نہیں پس حضورؐ ہم پر احسان فرمائیں اللہ تعالیٰ آپ پر احسان کرے گا۔پس ہوازن کے سا تھ آپ کا رضا عی تعلق تھا اور اس وجہ سے وہ اس بات کے مستحق تھے کہ آنحضرت ؐ ان کے ساتھ نیک سلوک کر تے۔چنانچہ آپؐ نے اسی ارادہ سے دس دن سے زیادہ تک اموال غنیمت کو مسلمانوں میں تقسیم نہیںکیا اور اس بات کے منتظر رہے کہ جو نہی ہوازن پشیمان ہو کر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوں اور اپنے اموال اور قیدیوں کو طلب کریں توآپؐ واپس فرما دیں کیونکہ تقسیم غنائم سے پہلےآپ کا حق تھا کہ آپ جس طرح چاہتے ان اموال اور قیدیوں سے سلوک کر تے خواہ بانٹ دیتے خواہ بیت المال کے سپرد فر ما تے۔خواہ قیدیوں کو آزاد کر دیتے اور مال واپس کر دیتے مگر باوجود انتظار کے ہوازن کا کو ئی وفد نہ آیا جو اپنے اموال اور قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کر تا اس لیے مجبوراً دس دن سے زیا دہ انتظار کرکے طائف سے واپس ہو تے ہوئے جعرانہ میں آپ نے ان اموال اور غلاموں کو تقسیم کر دیا۔تقسیم کے بعد ہوازن کا وفد بھی آپہنچا اور رحم کا طلبگار ہوا اور اپنا حق بھی جتا دیا کہ یہ قیدی غیر نہیں ہیں بلکہ جنابؐ کے ساتھ کچھ رشتہ اور تعلق رکھتے ہیں اور اس خاندان کی عورتیں ان قیدیوں میں شا مل ہیں جس میں کسی عورت کا حضور نے دودھ بھی پیا ہے اور اس لحاظ سے وہ آپ کی ما ئیں اور خالائیں اور کھلائیاں اور دائیاں کہلانے کی مستحق ہیں پس ان پر رحم کر کے قیدیوں کو آزاد کیا جائے اور اموال واپس کیے جا ئیں۔تقسیم سے پہلے تو حضور ضرور ہی ان کی درخواست کو قبول کر لیتے اور آپؐ کا طریق عمل ثابت کر تا ہے کہ جب کبھی بھی کو ئی رحم کا معاملہ پیش ہوا ہے حضور سرور کائنات نے بے نظیر رحم سے کام لیا۔مگر اب یہ مشکل پیش آگئی تھی کہ اموال و قیدی تقسیم ہو چکے تھے اور جن کے قبضہ میں وہ چلے گئے تھے اب وہ ان کا مال تھا۔اورگو وہ لوگ اپنی جان و مال کو اس حبیب خدا کی مرضی پر قربان کر نے کے لیے تیار تھے اور انہوں نے