انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 528 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 528

تھے۔اب میں اس دعا کی تشریح کر نی چاہتا ہوں تامعلوم ہو کہ آپؐ کے بدی سے تنفر اور نیکی سے عشق کا درجہ کہاں تک بلند تھا۔انسان جو کر تا ہے اس کی اصل وجہ اس کے دل کی نا پاکی اور عدم طہارت ہو تی ہے۔اگر دل پا ک ہو تو گناہ بہت کم سرزد ہو سکتا ہے کیونکہ پھر جو گناہ ہو گا وہ غلطی سے ہو گا یا نافہمی سے نہ کہ جان بوجھ کر۔ہاں جب دل گندا ہو جا ئے تو اس کاثر جو روح پر پڑتا ہے اور وہ قسم قسم کے گناہوں کا ارتکاب شروع کر دیتے ہیں۔ایک چور بے شک اپنےہا تھ سے کسی کا مال اٹھا تا ہے لیکن دراصل ہا تھ ایک با طنی حکم کے ماتحت ہو کر کام کر رہا ہے اور اصل باعث وہ دل کی حرص ہے جس نے ہا تھ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ غیر کا مال اٹھا لے۔اسی طرح اگر ایک جھوٹا جھوٹ بولتا ہے تو گو خلاف واقعہ کلمات اس کی زبان پر ہی جا ری ہو تے ہیں لیکن نہیں کہہ سکتے کہ زبان نے جھوٹ بولا کیونکہ وہ دل کے اشارہ پر کام کر تی ہے اور اسے جس طرح اس کا حکم پہنچا اس نے کام کر دیا۔اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فر مایا کہ اَلَا وَاِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَالْجَسَدُ کُلُّہٗ اَلَاوَھِیَ الْقَلْبُ (بخاری کتاب الایمان باب فضل من استبر الدینہ) جِسم انسان میں ایک لو تھڑا ہے کہ جب وہ درست ہو جائے تو سب جسم درست ہو جا تا ہے اور جب وہ بگڑ جا تا ہے تو سب جسم بگڑ جا تا ہے۔خبردار ہو کر سنو کہ وہ دل ہے۔پس دل کے نیک ہو نے سے جو ارح سے بھی نیک اعمال ظا ہر ہو تے ہیں اور اس کے خراب ہو جانے سے ہا تھ پاؤں آنکھیں کان اور زبان سب خراب ہو جا تے ہیں۔اسی وجہ سے آنحضرت ﷺ نےاپنی دعا میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی ہے کہ الٰہی میرے دل میں نور بھردے۔جب دل میں نور بھرا گیا تو پھرظلمت کا گزر کیونکر ہو سکتا ہےاور گناہ ظلمت سے ہی پیدا ہو تے ہیں۔جس طرح گنا ہ دل سے پیدا ہو تے ہیں اسی طرح دل کو خراب کر نے کے لیے کو ئی بیرونی سا مان ایسے پیدا ہو جا تے ہیں جن کی وجہ سے دل اپنی اصل حالت سے نکل جا تا ہے اس لیے رسول کریم ﷺ نے دل میںنور بھر نے کی درخواست کے بعد دعا فر ما ئی کہ جن ذریعوں سے قلب انسانی بیرونی اشیاء سے متاثر ہو تا ہے ان میں بھی نور ہی بھر دے یعنی آنکھوں اور کانوں کو نورا نی کر دے۔میری آنکھیں کو ئی ایسی بات نہ دیکھیں کہ جس کا دل پر خراب اثر پڑے۔نہ کان وہ با تیں سنے جن سے دل بدی کی طرف ما ئل ہو۔پھر اس سے بڑھ کر آپؐ نے یہ سو چا کہ کان اور آنکھیں بھی تو آخر