انوارالعلوم (جلد 1) — Page 518
شرک تھا مگر بڑےسے بڑے نبیوں او رمرسلین کی زندگی کا رسول کریم ؐکی زندگی سے مقابلہ کرکے دیکھ لو جو فکر اور فہم آپؐ کو شرک کی بیخ کنیکا تھا اس کی نظیر اَور کہیں نہیں ملتی حضرت موسٰی نے فرعون کو ایک خدا کی پرستش کی تبلیغ کی۔حضرت مسیح ناصری ؑنے ایک سا ئل کو کہا کہ سب سے بڑا حکم یہ ہے کہ تو اس خدا کو جو آسمان پر ہے اپنے سچے دل اور سچی جان سے پیار کر۔حضرت ابراہیم ؑنے اپنی قوم کے بتوں کو توڑ کر ان پر شرک کے عقیدہ کا بطلان ثابت کیا۔حضرت نوح ؑنے بھی اپنی قوم کو واحد خدا کی پر ستش کی طرف بلا یا لیکن ہمارے سردار وآقا ہادی برحق ﷺ نےجس طرح شرک مٹانے کے لیے جدو جہد کی ہے ا س کی مثال اَور کسی نبی کی ذات میں نہیں ملتی۔بے شک دیگر انبیاء نے اپنی عمر کا ایک حصہ شرک کے مٹانے پر خرچ کیا مگر جو دُھن اس مرض کو مٹانے کی خاتم النبیین ﷺکو لگی ہو ئی تھی وہ اَور کسی کو نہ تھی۔آپؐ نے اپنے دعویٰ کے بعد ایک ہی کام کو مد نظر رکھا کہ ایک خدا کی پرستش کروائی جا ئے۔تمام اہل عرب جو شرک میںڈوبے ہو ئے تھے آپؐ کے مخالف ہو گئے اور یہاں تک آپؐ سے در خواست کی کہ جس طرح ہو آپؐ ہمارے معبودوں کی تردید کو جانے دیں اور ہم آپؐ سے وعدہ کر تے ہیں کہ آپؐ جو مطالبہ بھی پیش کریں گے ہم اسے قبول کریں گے حتّٰی کہ اگر آپؐ چاہیں تو ہم آپؐ کو اپنا بادشاہ بھی بنالیں گے اور ایسا بادشاہ کہ جس کے مشورہ کے بغیر ہم کو ئی کام نہ کریں گے۔مگر باوجود اس تحریص و ترغیب کے اور باوجود طرح طرح کے ظلم و ستم کے جو آپؐ پر اور آپؐ کی امت پر توڑے جا تے تھے آپؐ نے ایک لمحہ اور ایک سیکنڈ کے لیے بھی یہ برداشت نہ کیا کہ خدا تعالیٰ کی وحدت کے بیان میں سُستی کریں بلکہ آپؐ نے ترغیب و تحریص دینے والوں کو یہی جواب دیا کہ اگر سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے با ئیں لا کھڑا کر وتب بھی میں خدا تعالیٰ کی وحدت کا بیان و اقرار ترک نہ کروں گا جو تکالیف لوگوں کی طرف سے شرک کی تر دید کی وجہ سے آپؐ کو پہنچیں ویسی اَو رکسی نبی کو نہیں پہنچیںاور جس طرح آپؐ کو اور آپؐ کے متّبعین کو خدا تعالیٰ کے ایک ماننے پر ستایا اور دکھ دیا گیا ہے اس طرح اَور کسی کو تکلیف نہیں دی گئی۔مگر پھر بھی آپؐ اپنے کام میں بجائے سُست و غافل ہونے کے روز بروز زیادہ سے زیادہ مشغول ہوتے گئے۔حتٰی کہ بعض صحابہ قتل کیے گئے۔آپؐ کو وطن چھوڑنا پڑا۔رشتہ دار چھوڑنے پڑے۔زخمی ہو ئے۔ان تمام تکالیف کے بعد آپؐ اپنے مخالفین کو بھی جواب دیتے کہ اَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ پہلے انبیاء نے اپنی اپنی قوم سے مقابلہ کیا اور خوب کیا لیکن ہمارے آنحضرت ﷺ نے ایک قوم سےنہیں دو قوموں سے نہیں بلکہ اس وقت