انوارالعلوم (جلد 1) — Page 478
مگر جو نہی کہ ابو سفیان نے خدا تعالیٰ کی ذات پر حملہ کیا اور سر میدان شرک کا اعلان کیا اور بجا ئے خدا تعالیٰ کی عظمت بیان کرنے کے ہبل بت کی تو صیف کی تو آپؐ برداشت نہ کرسکے اور صحابہ ؓکو حکم دیا کہ اسے جواب دو کہ خدا کے سوا اورکو ئی نہیں جو عظمت و جلال کا مالک ہو۔پھر جب اس نے یہ ظاہر کیا کہ عزیٰ ہمارا مدد گا ر ہے آپؐ نے صحابہ ؓکو حکم دیا کہ اسے کہہ دو کہ ہمارا خدا مددگار ہے اور ہم کسی اور کی مدد نہیں چاہتے اور یہ بات بھی خوب یادرکھو کہ خدا ہماری مدد کرے گا اور تمہاری مدد کر نے والا کوئی نہ ہو گا۔اللہ اللہ ! اپنے نفس کے متعلق کیا صبر ہے اور خدا تعالیٰ اور اس کے دین کی کیسی غیرت ہے۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیدٌ مَّجِیْدٌ۔کعب بن مالک رضی اللہ عنہ :رسول کریم ﷺ کی غیرت دینی کے ظاہر کر نے کے لیے اگر چہ پچھلی مثال بالکل کافی تھی لیکن میں اس جگہ ایک واقعہ بھی لکھ دینا ضروری سمجھتا ہوں جس سے خوب روشن ہوجاتا ہے کہ رسول کریمﷺ نہ صرف دشمنوں کے مقابلہ میں غیرت دینی کا اظہارفرماتے تھے بلکہ دوستوں سے بھی اورکوئی حرکت ایسی ہو تی جس سے احکام الہٰیہ کی ہتک ہو تی ہو تو آپ ؐ اس پر اظہار غیرت سے باز نہ رہتے اور اس خیال سے خاموش نہ رہتے کہ یہ ہمارے دوستوں کی غلطی ہے اسے نظر انداز کر دیا جائے۔حضرت کعب ابن مالک رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں: لم أتخلف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة غزاها إلا في غزوة تبوك غير أني كنت تخلفت في غزوة بدر ولم يعاتب أحدا تخلف عنها إنما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يريد عير قريش حتى جمع الله بينهم وبين عدوهم على غير ميعاد ولقد شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة العقبة حين تواثقنا على الإسلام وما أحب أن لي بها مشهد بدر وإن كانت بدر أذكر في الناس منها كان من خبري أني لم أكن قط أقوى ولا أيسر حين تخلفت عنه في تلك الغزاة والله ما اجتمعت عندي قبله راحلتان قط حتى جمعتهما في تلك الغزوة ولم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم يريد غزوة إلا ورى بغيرها حتى كانت تلك الغزوة غزاها رسول الله صلى الله عليه وسلم في حر شديد واستقبل سفرا بعيدا ومفازا وعدوا كثيرا فجلى للمسلمين أمرهم ليتأهبوا أهبة غزوهم فأخبرهم