انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 428

(مراد) ہے جو حبس ماء (steam) سے چلے گی اور اپنے آگے دھوئیں کا ایک پہاڑ رکھے گی اور سواری اور باربرداری کے لحاظ سے حمار کی طرح ہوگی اور چلتے وقت ایک آواز کرے گی وَغَیرُذٰلِکَ۔دوم:۔اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ (التکویر11:) یعنی کتابوں اور نوشتوں کا بہ کثرت شائع ہونا۔آجکل بباعث چھاپہ کی کلوں کے جس قدر اس زمانہ میں کثرت اشاعت کتابوں کی ہوئی ہے اس کے بیان کی ضروت نہیں۔سوم اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ (التکویر8:) نوع انسان کے باہمی تعلقات کا بڑھنا اور ملاقاتوں کا طریق سہل ہوجانا کہ موجودہ زمانے سے بڑھ کر متصور نہیں۔چہارم تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُ تَتْبَعُھَا الرَّادِفۃُ (النّٰزِعٰت6:) متواتر اور غیر معمولی زلزلوں کا آنا یہاں تک کہ زمین کانپنے والی بن جائے۔سو یہ زمانہ اس کے لئے بھی خصوصیت سے مشہورہے۔پنجم وَاِنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اِلَّا نَحْنُ مُھْلِکُوْھَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ اَوْ مُعَذِّبُوْھَا (بنی اسرائیل59:) کوئی ایسی بستی نہیں جس کو ہم قیامت سے پہلے پہلے ہلاک نہیں کریں گے یا کسی حد تک اس پر عذاب وارد نہیں کریں گے۔چنانچہ اسی زمانہ میں طاعون اور زلزلوں اور طوفان اور آتش فشاں پہاڑوں کے صدمات اور باہمی جنگوں سے لوگ ہلاک ہور رہے ہیں اور اس قدر اسباب موت کے اس زمانہ میں جمع ہوئے ہیں اور اس شدت سے وقوع میں آئے ہیں کہ اس مجموعی حالت کی نظیر کسی پہلے زمانہ میں پائی نہیں جاتی۔پھر اسلام تو ایسا مذہب ہے کہ ہر صدی میں اس کے ماننے والوں میں سے ایسے لوگ پیدا ہوتے رہتے ہیں جو الہام الٰہی سے سرفراز ہوتے رہتے ہیں اور خارق عادت نشانات سے ظاہر کرتے ہیں کہ ایک قادرو توانا، مدبّر بالارادہ ہستی ہے۔چنانچہ اس زمانہ کے مامور پر نہایت بے بسی و گمنامی کی حالت میں خدا نے وحی نازل کی یَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔یَنْصُرُکَ رِجَالٌ نُّوْحِیْٓ اِلَیْھِمْ مِّنَ السَّمَآئِ وَلَا تُصَعِّرْ لِخَلْقِ اللّٰہِ وَلَا تَسْئَمْ مِنَ النَّاسِ (دیکھو براہین احمدیہ مطبوعہ 1881ء صفحہ 241۔روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 267 حاشیہ) کہ ہر ایک راہ سے لوگ تیرے پاس آئیں گے اور ایسی کثرت سے آئیں گے کہ وہ راہیں عمیق ہو جائیں گی۔تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کے دلوں میں ہم آپ القاء کریں گے۔مگر چاہئے کہ تو خدا کے بندوں سے جو تیرے پاس آئیں گے، بدخلقی نہ کرے اور چاہئے کہ تو ان کی ملاقاتوں سے تھک نہ جائے۔ایک شخص ایک گائوں میں رہنے والا جس کے نام سے مہذب دنیا میں سے کوئی آگاہ نہ تھا، یہ اعلان کرتا ہے پھر باوجود