انوارالعلوم (جلد 1) — Page 415
کرلیا کہ کوئی چیز ایسی انسان میں مو جود ہے جو ان موقعوں پر اس کے کام آتی ہے اور اس چیز کا نام ہم نے عقل رکھا۔پس عقل کو بلاواسطہ ہم نے پانچوں حواسوں میں سے کسی سے بھی دریافت نہیں کیا بلکہ اس کے کرشموں کو دیکھ کر اس کا علم حاصل کیا۔اسی طرح جب ہم نے انسان کو بڑے بڑے بوجھ اُٹھاتے دیکھا تو معلوم کیا کہ اس میں کچھ ایسا مادہ ہے جس کی وجہ سے یہ بوجھ اُٹھا سکتا ہے۔اپنے سے کمزور چیزوں کو قابو کرلیتا ہے اور اس کا نام قوت یا طاقت رکھ دیا اس طرح جس قدر لطیف سے لطیف اشیاء کو لیتے جائو گے ان کے وجود انسانوں کی نظروں سے غائب ہی نظر آئیں گے اور ہمیشہ ان کے وجود کا پتہ ان کے اثر سے معلوم ہوگا نہ کہ خود انہیں دیکھ کر یا سونگھ کر یا چکھ اور چھو کر۔پس اللہ تعالیٰ کی ذات جو الطف سے الطف ہے اس کا علم حاصل کرنے کے لئے ایسی ایسی قیدیں لگانی کس طرح جائز ہوسکتی ہیں کہ آنکھوں کے دیکھے بغیر اسے نہیں مانیں گے۔کیا بجلی کو کہیں کسی نے دیکھا پھر کیا الیکٹریسٹی کی مدد سے جو تار خبریں پہنچتی ہیں یا مشینیں چلتی ہیں یا روشنی کی جاتی ہے اس کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ایتھر کی تحقیقات نے فزیکل علوم کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔لیکن کیا اب تک سائنس کے ماہرین اس کے دیکھنے، سننے، سونگھنے، چھونے یا چکھنے کا کوئی ذریعہ نکال سکے۔لیکن اس کا وجود نہ مانیں تو پھر یہ بات حل ہیں نہیں ہوسکتی کہ سورج کی روشنی دنیا تک پہنچتی کیونکر ہے۔پس کیسا ظلم ہے کہ ان شواہد کے ہوتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ خدا کودکھائو تو ہم مانیں گے۔اللہ تعالیٰ نظر تو آتا ہے لیکن انہیں آنکھوں سے جواس کے دیکھنے کے قابل ہیں۔ہاں اگر کوئی اس کے دیکھنے کا خواہش مند ہو تو وہ اپنی قدرتوں اور طاقتوں سے دنیا کے سامنے ہے اور باوجود پوشیدہ ہونے کے سب سے زیادہ ظاہر ہے۔قرآن شریف میں اس مضمون کو نہایت ہی مختصر لیکن بے نظیر پیرایہ میں اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا ہے کہ لَا تُدْرِکُہُ الْاَ بْصَارُ وَھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ وَھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ (الانعام104:) یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے کہ نظریں اس تک نہیں پہنچ سکتیں بلکہ وہ نظروں تک پہنچتا ہے اور وہ لطیف اور خبردار ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ تیری نظر اس قابل نہیں کہ خدا کی ذات کو دیکھ سکے کیونکہ وہ تو لطیف ذات ہے اور لطیف اشیاء تو نظر نہیں آتیں۔جیسا کہ قوت ہے، عقل ہے، روح ہے، بجلی ہے، ایتھر ہے، یہ چیزیں کبھی کسی کو نظر نہیں آتیں پھر خدا کی لطیف ذات تک انسان کی نظریں کب پہنچ سکتی ہیں۔ہاں پھر خدا کو لوگ کس طرح دیکھ سکتے ہیں اور اس کی معرفت کے حاصل کرنے کا کیا طریق ہے۔اس کا جواب دیا کہ وَھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ یعنی خود