انوارالعلوم (جلد 1) — Page 15
نہیں ہوتا۔اب حضرت لقمان فرماتے ہیں کہ جب تو صبر کرے گا تو ایک مدت کے بعد لوگ تیری طرف رجوع کریں گے کیوں کہ جب تو خداکے لئے لوگوں سے علیحدہ ہو جائے گا اور لوگ تجھ سے عداوت کریں گے تو آخر خدا خلائق کا منہ تیری طرف پھیر دے گا یہاں تک کہ قریب ہے کہ تو ان سے کج خلقی کرے۔پس ایسا مت کرو بلکہ چلو تو ایسی طرز سے کہ اس میں شیخی کی بو نہ پائی جائے کیوں کہ یہ بات خدا کو پسند نہیں وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ-اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠یعنی میانہ روی اختیارکر اور اپنی آواز نرم اور نیچی کر کیوں کہ سب سے بری آواز گدھے کی ہے۔اس جگہ پر بھی بیان ہے کہ جب تو نبی ہو جائے اور لوگ تیری طرف دور دور سے آویں اور تو دوڑ کر گھر میں گھس جائے تو ان کو کس قدر صدمہ ہو گا کہ ہم تو ملنے آئے اور یہ دوڑ کر گھر چلے گئے۔یا کوئی دور سے آیاتھا کہ کچھ کلام سنیں گے مگر یہاں تو نے ایسی اونچی اور کرخت آواز سے کلام کیا کہ اس کے دل کو برالگا کیونکہ دیکھو گدھے کی اونچی آواز ہے مگر سب آوازوں سے بری معلوم ہوتی ہے۔اس رکوع میں حضرت لقمان اپنے بیٹے کو فرماتے ہیں کہ تو پہلے شرک کو چھوڑ اور اس طرح گناہوں کو ترک کر کےعبادت کو قائم کر پھر جب تو گناہوں کو چھوڑ دے گا۔اور نیکیاں کرے گا تو خد اکابر گزیدہ ہو جائے گا۔پس دیکھو کہ خدا کے کلام سے ظاہر ہے کہ کل برائیوں کی جڑ یہی شرک ہے۔اب میں یہ دعا کر کےبیٹھتا ہوں کہ خدا ہم کو پاک کرے۔ہمارے دل سے شرک کا زنگ دور کرے اور ہم کو توفیق دےکہ ہم بھی لقمان کی ان نصائح پر عمل کر سکیں۔آمین۔