انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 393

آج کل کوئی شخص اٹھ کر کہے کہ رسول اللہ اﷺنے فلاں بات یوں فرمائی تھی تو کیا ہمارا فرض ہے کہ بغیر کسی ثبوت کے اس کی بات مان لیں یا تو وہ کسی کتاب کا حوالہ دے کہ میں نے یہ حدیث فلاں کتاب میں پڑھی یا بتائے کہ میں نے یہ حدیث فلاں معتبر آدمی سے سنی اس نے آگے فلاں سے سنی اور اسی طرح رسول اللہ اﷺتک پہنچائے۔اس بات کا جواب حافظ محمد یوسف نے یہ دیا کہ مشکوٰۃ میں موجود ہے (عجیب جواب ہے علماء نے صحاح ستہ تک کی بعض احادیث پر جرح کی ہے اور حافظ صاحب مشکوٰة کی ہر ایک حدیث کو حجت قرار دیتے ہیں کہ جس میں نہ صرف صحاح ستہ بلکہ دوسری احادیث کی کتب کے علاوہ صحابؓہ اور تابعین اور تبع تابعین تک کے اقوال کو ہرقسم کی کتب سے نقل کیا گیا ہے۔اور خود مصنف نے احادیث کے تین باب باند ھے ہیں۔اور تیسرے باب کو پہلے دو بابوں سے بہت ادنیٰ درجہ کا قرار دیا ہے۔اور یہ حدیث جس کے راویوں تک کا پتہ نہیں تیسرے باب کی ہی حدیث ہے، اور دوم حدیث کے اماموں کے مقرر کردہ قواعد کے لحاظ سے بھی ثابت نہیں ہوتی تو ہم پر کب حجت ہو سکتی ہے) حافظ روشن علی صاحب - مشکوٰۃ میں موجود ہونے سے ہم پر حجت نہیں ہو سکتی۔ہمارےیہاں مشکوٰۃ مسلم نہیں ہے جب تک اس کی کوئی حدیث آئمہ محدثین کے مقرر کردہ قواعد کےماتحت ثابت نہ ہو ہم اس کے ماننے کے پابند نہیں ) سند کے ساتھ اس حدیث کو رسول الله ﷺتک پہنچائیں تااس کے راویوں پر نگاہ کی جائے کہ کس پائے کے ہیں۔حافظ محمد یوسف صاحب۔آپ کے ہاں کی حدیث مسلم ہو اکرتی ہے۔حافظ روشن علی صاحب۔اگر عقائد کے متعلق ہو تو متواتر یا مشہور حدیث اور اگر اعمال کے متعلق ہو تو ایسی احادیث بھی ہم مان لیتے ہیں کہ جو قرآن کریم اور متواتر حدیث کے بر خلاف نہ ہو۔حافظ محمد یوسف صاحب۔جو حدیث احکام پر مشتمل نہ ہو اس کے متعلق کیا اعتقاد ہے۔حافظ روشن علی صاحب۔اگر وہ قرآن اور حدیث متواتر مشہور کے خلاف نہ ہو تو مسّلم ہے حافظ محمد یوسف صاحب: یہ حدیث آپ کو کیوں مسلمّ نہیں۔حافظ روشن علی صاحب۔اس لئے کہ یہ حدیث نہ متواتر ہے نہ مشہور ہے اور نہ احاو- اس کی سند تک موجود نہیں۔