انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 392

مدرسہ الہٰیات کے پر نسپل جناب مولوی عبد القادر صاحب آزاد سبحانی بھی وہاں تشریف فرما تھے۔انہوں نے بھی کہا کہ واقعی اگر آپ لوگ استفادہ کے طور پر آئے ہیں تو بیشک جو دریافت فرمانا ہوان لوگوں سے دریافت فرماویں۔لیکن ایسا نہ ہو کہ پیچھے یہ استفادہ بحث کا رنگ پکڑلے۔اس پر وہ طالب علم صاحب جو سب کے زعیم معلوم ہوتے تھے ان کے بھی پیچھے پڑ گئے۔آخراس بحث کو کو تاہ کرنے کے لئے میں نے حافظ روشن علی صاحب کو مقرر کیا کہ وہ ان صاحبان کے سوالات کا جواب دیں۔چنانچہ ان میں سے ایک صاحب نے جن کا نام اس اشتہار سے حافظ مولوی محمد یوسف معلوم ہوتا ہے مذکور ہ ذیل حدیث پیش کی کہ اس کو مرزا صاحب پر منطبق کریں۔” عن عبد اللہ بن عمر و قال قال رسول اللہ ﷺینزل عیسیٰ ابن مریم الی الأرض فیتزوج و یولد یمکث خمسا و اربعین سنة ثم یموت و یدفن معی فی قبری فاقوم انا و عیسیٰ ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر و عمر (مشکوة ۴۸۰ باب نزول عیسی علیہ السلام ) ’’جس کا مطلب یہ ہے کہ فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ عیسیٰ ابن مریم اتریں گے اور شادی کریں گے اور ان کے ہاں اولاد ہوگی اور پینتالیس سال رہ کر وفات پائیں گے اور دفن کئے جاویں گے میرے ساتھ میری قبر میں۔پس کھڑے ہوں گے میں اور عیسیٰؑ ابن مریم ایک ہی قبر سے ابو بکرؓ اور عمر ؓکے درمیان۔اس کا جواب حافظ روشن علی صاحب نے یہ دیا کہ آپ پہلے اس حدیث کو رسول الله ﷺتک ثابت کریں۔یعنی جیسا کہ حضرت امام بخاری و مسلم و ابوداؤد و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و امام مالک و امام احمد بن حنبل و غیر ہم کبار محد ثینؒ کا قاعدہ ہے کہ وہ جو حدیث بیان کرتے ہیں اس کےساتھ وہ ساری سند بیان کرتے ہیں کہ ہم نے کس سے سنا اوراس نے آگے کس سےسنا یہاں تک کہ رسول الله ﷺتک پہنچادیتے ہیں اسی طرح آپ بھی اس حدیث کی سند بیان کریں کہ یہ کسی شخص نے لکھی ہے اور اس نے آگے کس سے سنی تاکہ جو اس حدیث کے راوی ہیں ان پر جرح قدح ہو سکے۔اور معلوم ہو کہ آیا اس حدیث کے راویوں میں کوئی کمزور اور غیر معتبر راوی تو شامل نہیں ہے۔کیونکہ جس شخص نے پہلے پہلی یہ حدیث روایت کی ہے وہ رسول الله ﷺ سے قریباً پانچ سو سال بعد گذرا ہے اس کو یہ حدیث کیونکر معلوم ہوئی۔جب وہ رسول الله ﷺکے وقت موجود نہ تھا۔آخر کسی سے سنی ہوئی ہیں جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے کس سے سنی اور جس سے سنی وہ معتبر تھایا نہیں ہم اس حدیث کو حدیثِ رسول الله ﷺکیونکرمان لیں اگر 2