انوارالعلوم (جلد 1) — Page 12
خدا بھی۔پس یہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ صرف دنیا ہی لقمان کو عقلمند بتاتی ہے بلکہ میں نے بھی اس کو حکمت دی ہے اور میں بھی اس کو حکمت والا قرار دیتا ہوں۔اب دیکھنا چاہئے کہ دنیا میں کون سا انسان تابعداری کرانے کے قابل ہو تا ہے۔وہی جو عقلمند ہو۔اور وہ جو کہ بیوقوف اور جاہل مطلق ہو وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ اس کی فرماں برداری کی جائے۔کفر و شرک کے نتائج کا بیانپس اس جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ لقمان تو دنیاوی لوگوں کے خیال بموجب اور دینی لوگوں کے ایمان کے مطابق ایک حکمت والا آدمی تھا۔پس ایسے آدمی کی بات تو بڑی وزن دار ہے۔اور چاہئے کہ دنیا اس کو قبول کرے کیوں کہ ہوا جووہ اہل الرائے۔اب جو بات کہ لقمان کہتا ہے وہ آگے بیان ہوگی۔پھرخد ا تعالیٰ فرماتا ہے کہ حکمت کا نتیجہ ہونا چاہئے کہ خدا کا شکر کیا جائے تاکہ وہ خود اپنے پہلے انعامات سے بھی بڑھ کر اس پر انعامات کرے۔اور جو شکر کرے وہ تو انسان کی اپنی جان کے لئے بھی مفید ہو تا ہے۔کیوں کہ انسان کے شکر کرنے سے خدا تعالیٰ کا تو کچھ بڑھ نہیں جاوے گا خدا تعالیٰ کی صفات میں نہ طاقت میں کوئی ترقی ہوگی بلکہ الٹا شکر کرنے والے کو فائدہ پہنچے گا۔پس باوجود ان باتوں کے ہوتےہوئے کفر کرے تو خدا تعالیٰٰ کو اس کی کیا پر واہ ہے۔کیا اس کے کفرسے خدا میں کسی قسم کی کمی واقع ہوجائے گی ؟ اور اس طرح وہ شخص اپنا ہی نقصان کرے گا۔دیکھو کہ آدم کے زمانہ سے لے کر آج تک جنہوں نے شکر کیا وہ بڑھے اور پھولے اور پھلے۔مگر جنہوں نے کفر کیا وہ ہمیشہ تباہ ہی ہوئے۔نوح علیہ السلام اور ایسا ہی لوط علیہ السلام نے شکر کیا۔وہ ترقی پا گئے خدا کے مقبول ہوئے۔ان کی قوم نے کفر کیا وہ تباہ ہو گئیں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام سے عذاب کے وقت و عدہ کیا تھا کہ جوتیرے تعلق والے ہیں میں ان کو بچاؤں گا۔جب طوفان آیا تو ایک بیٹا لگاڈوبنے۔حضرت نوح علیہ السلام نے آہ و زاری کی کہ اے خدا یہ تو میرا بیٹا ہے۔حکم ہوا کہ خاموش کہ یہ تیرا بیٹا نہیں۔اگر تیرابیٹا ہو تا تو تیرا ساتھ دیتا اور مجھ پر ایمان لاتا۔جب تو نے میرے ساتھ خالص تعلق پیدا کیا اور شرک سے بکلی پرہیز تو جو لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں وہی لوگ تیرے تعلق والے ہیں۔احمدیت کی حقیقت پس اے احمدی قوم !خد ا ہمارا رشتہ دار نہیں۔شرک سے پرہیز کرو اورعبادت کرو تاکہ خدا تمهارا نگہبان ہو جائے۔دیکھو کہ خدا نے نوح علیہ السلام کے بیٹے تک کی پرواہ نہیں کی۔پس اس بات سے خوش ہونا کہ احمدی ہیں نادانی ہے۔بلکہ ایسے کام کرو کہ احمدی ہونے کے لائق ثابت ہو اور اسی طرح لوطؑ کی بستی کا حال دیکھ لو کہ کس طرح ہوگئی کہ کفر کرتی تھی اور حضرت لوط جو شکر کرنے والے بندے تھے بچ گئے۔یہاں حضرت لوطؑ