انوارالعلوم (جلد 1) — Page 373
کرتا۔غرض جو صرف زبانی باتیں بنانے والا ہے وہ پاگل ہے۔جس طرح پاگل کہتا ہے میں بادشاہ ہوں ، حکیم ہوں ، طبیب ہوں،مہندس ہوں‘ سلطان ہوں، اور اس سے وہ سچ مچ بادشاہ وغیرہ نہیں بن جاتا۔اسی طرح اگر کوئی شخص محض زبان سے کہتا ہے کہ میں مؤمن ہوں اوراس کے مطابق اس کے اعمال نہیں تو وہ ان انعامات کا وارث نہیں ہو سکتا جو مؤمن کے لئے مقرر ہیں۔پس میرے دوستو !تمہیں پاگل خانہ دیکھنے کے لئے لاہور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ خود تمہارے گھر میں پاگل خانہ کا نظارہ موجود ہے۔جو شخص کہتا ہے کہ میں مؤمن ہوں اور عمل ویسے نہیں کرتا وہ پاگل کی طرح ہی ہے۔کیونکہ وہ بھی اپنے آپ کو ایک ایسا درجہ دینا ہے جس کا حقیقتاً وارث نہیں۔اتقو ربکم اپنے رب کا تقوی ٰاختیار کرو۔یہاں احسان و خوف دو نوں یاد دلا دیئے ہیں۔کس کا تقویٰ کرو۔اپنے رب کا۔زمین جس پر سوتے ہو وہ کس کی ہے؟ اسی رب کی۔آسمان کو کس نے بنایا؟ خدا نے۔آنکھوں میں نور کس نے بخشا؟ خدا نے۔جس کے ذریعے ایک دوسرے کو پہچانتے رستہ دیکھتے اور کتابیں پڑھتے ہو، پھر ہاتھ، دماغ، دل بھی اسی نے بخشے جن چیزوں سے ہم کام لیتے ہیں پھر جن قوتوں سے ان کو استعمال میں لاتے ہیں وہ سب ہی رب کی دی ہوئی ہیں۔تو کیا ہمارا فرض نہیں کہ اس کے فرمانبردار رہیں؟ کہتے ہیں چور جس گھر پر کھانا کھالے وہاں چوری نہیں کرتا۔حالانکہ چور ایساذلیل ہے کہ کوئی شریف آدمی اس کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں کرتا تو پھر جس کا تم روز کھاتے ہو اسی کی نمک حرامی کرو تو اس چورسے بد تر ہو یا نہیں۔کان ، حلق، زبان ،منہ، پانی سب کچھ خدا کا دیا ہو مگر محبت کریں َاوروں سے اور اپنے حقیقی محسن کو بھول جائیں۔کس قدر شرم اور افسوس کی بات ہے۔کیا لطیف نکتہ معرفت ہے اس حکایت میں جو میں نے پچھلے دنوں پڑھی کہ ابراہیم ادہمؒ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ مجھ سے گناہ نہیں چھوٹ سکتے۔آپ نے فرمایا چھ باتیں بتاتا ہوں ان پر عمل کرو پھر بے گناہ کر لیا کرو (ا) جب تو خدا کا گناہ کرے تو خدا کا بنایا ہوا رزق نہ کھائیو (۲) دوسرا یہ کہ اگر خدا کا گناہ کرنا ہے تو خدا کے ملک میں نہ رہیو۔(۳) یہ کہ اگر خدا کا گناہ کرنا ہے تو خدا سے چھپ کر کیجئیو (۴) چہارم یہ کہ اگر خدا کا گناہ کرتا ہے تو ملک الموت جب آوے تو کہنا کہ مجھے اتنی مہلت دو کہ میں توبہ کر لوں۔(۵) پنجم یہ کہ اگر وہ نہ مانے تو پھر منکر نکیر جب سوال کریں تو ان سے انکار کر دینا کہ میں تمہارے سوالوں کا جواب نہیں دیتا (۲) ششم یہ کہ جب تھے دوزخ میں ڈالنے لگیں تو اَ ڑ بیٹھنا کہ میں تو یہاں نہیں جاتا۔اس نے عرض کیا کہ حضور یہ تو نہیں ہو سکتا۔فرمایا پھر کیسی بے حیائی اور بے شرمی ہے کہ تو اس کا رزق کھاتا ہے اس کی زمین پر رہتا ہے