انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 341

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم پہاڑی وعظ انسان کو اپنی عمر میں کئی ایسے واقعات پیش آتے ہیں جنکو اگر محفوظ رکھا جائے اور تحریر میں لایاجائے تو نہ صرف اس کے لئے بلکہ بہت سے اور لوگوں کے لئے مفید و با بر کت ثابت ہوں۔بعض وفعہ ایک چھوٹی سی بات بڑے بڑے نتائج پیدا کرتی اور ایسے ایسے ثمرات اس سے نکلتے ہیں کہ جوسننے والے کے لئے خضر راہ ہو جاتے ہیں مسیحوں میں پہاڑی وعظ ایک ایسا اعلی درجہ کا پر مغز اور پرمعارف و عظ سمجھا جا تا ہے کہ جس کے مقابل میں دنیا کی کوئی تحریر اور نوشتہ نہیں ٹھہر سکتا۔اور وہ انیس سو (۱۹۰۰ )سال سے اب تک اسے پڑھتے ہیں اور اس کی لطافت اور نزاکت پر سردھنتے ہیں۔مسیحؑ نے نہ معلوم کن جذبات اور کن خیالات کے ماتحت وہ الفاظ کے ہو گئے۔مگر مسیحیوں کےنزدیک آئندہ آنے والے خطرناک اور مہیب راستوں میں اور قبر کے اند ھیروں اور حشر نشر کےتشویش افزا میدان میں وہ ایک ایسا دوست اور رہنما ہے کہ جس پر عمل کر کے انسان ہر قسم کےدکھوں اور مصیبتوں سے بچ سکتاہے۔مجھے بھی پچھلے دنوں پہاڑ پر جانے کا اتفاق ہوا۔اور وہاں پنجاب کے ایک مشہور و معروف پادری صاحب سے ہم کلامی کا موقعہ ملا۔چونکہ و ہ گفتگو جو میرے اور پادری صاحب کے درمیان ہوئی میرے خیال میں صاط مستقیم کے متلاشیوں کے لیے کسی صورت میں پہاڑی وعظ سے کم نہیں اور چونکہ احد المتکلمین ایک مسیحی صاحب ہیں اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ میں بھی اس گفتگو کا نام پہاڑی وعظ ہی رکھوں امید ہے کہ پادری صاحبان مندرجہ بالا وجوہات پر غور کرتےہوئے اس پر اظہار ناپسندیدگی نہ فرمائیں گے۔عمر کے بعد حسب معمول میں اور میرے دوست ڈلہوزی سے بیلون کی طرف سیر کے لئے