انوارالعلوم (جلد 1) — Page 314
سکتا۔پھر ہمارے مخالف کیوں بار بار ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں وہ زمانہ یاد کریں جبکہ کفر کی بوچھاڑ ہم پر پڑتی تھی۔اور ملامت کے تیروں سے ہمارا بدن زخمی کیا جا تا تھا اور تمام لوگوں کی آنکھیں اس طرف لگی ہوئی تھیں کہ کب یہ سلسلہ تباہ ہو تا ہے اور ایسے وقت میں خدا نے ہماری تائید کی اور ہر ایک دکھ اور درد سے ہم کو بچایا اور ہر ایک شرسے ہم کو محفوظ رکھا تو ہم کیسے ناشکرگزار ہوں گے کہ جب خدا نے ہم کو ہر مصیبت سے بچا کر امن کی زندگی عطا فرمائی تو ہم کو اس وقت یہ نہیں چاہیے کہ لا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النّار(ھود۱۱۴)کی نہی کو نعوذ باللہ کہیں پسِ پشت ڈال دیں۔ہاں سوچو تو سہی کہ جس کے باپ کو کوئی جھوٹا سمجھتا اور مفتری خیال کرتا ہے تو وہ اس سے تعلق توڑ دیتا ہے اور اس سے دوستی اور محبت پیدا نہیں کر سکتاپس ہم کس طرح ان لوگوں سے جو ہمارے والد سے زیادہ معزز اور محبوب انسان کی ہتک کریں اور اسے جھوٹاخیال کریں صلح کر سکتے ہیں۔اگر ہم ایسا خیال کریں تو ہم سے زیادہ بے شرم کون ہو سکتا ہے اسلام نے دنیا کے معاملات میں تعصب اور مخالفت کو ناجائز قرار دیا ہے پس ہم جہاں تک دنیا کا تعلق ہےان لوگوں سے نرمی کا بر تاؤکر سکتے ہیں۔لیکن دین کے معاملہ میں یہ اور راہ پر قدم زن ہیں اور ہم اور راہ پر اور یہ ایسا ہی معاملہ ہے جیسا کوئی شخص مسلمان ہو کر اپنے والدین سے ہر قسم کا سلوک کرتا ہے اور شرعاً اس کی ممانعت نہیں بلکہ حکم ہے۔لیکن ان کے پیچھے نمازیں پڑھنے میں ہم کو تامل ہے اور اس کے ذمہ دار خود یہی لوگ ہیں۔کفر کی ابتداء انہوں نے کی نہ ہم نے۔اول اول تو خدا نے رحم کیا اور کوئی حکم نہ دیا لیکن جب مخالفت حد سے بڑھ گئی تو خدا نے چاہا کہ ان کو اس فیض سے محروم کر دے جو ان کو اس مأمور من اللہ سے برائے نام تعلق کی وجہ سے تھا اور اس نے فیصلہ کر دیا کہ اب ان لوگوں سے تمہارا کوئی تعلق نہیں تو اب کس طرح ممکن ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے فیصلہ کوتوڑ کر ان سے مل جائیں۔کیا مامور من الله غلطی خوردہ ہو سکتا ہے؟اور ہمارے مخالف اپنے دل میں اتنا توسوچیں کہ جب وہ حضرت مسیح موعودؑ کوراستباز مانتے ہیں تو کیوں کر کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر وہ جھوٹ بولتے رہے ہیں اور جو لوگ یہ۔کہتے ہیں کہ اس معاملہ میں ہم ان کو جھوٹا نہیں بلکہ عملی خوردہ جانتے ہیں و و الهام کی حقیقت سےبالکل ناواقف ہیں او ر در حقیقت اس کے منکر ہیں۔کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک شخص روزاس بات کا مدعی ہو تا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کلام کیا اور کہا کہ تو مأمور ہے اور مرسل ہے اور