انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 254

مضر ہے تو ضرور نقصان کرے گی۔لیکن اس سے اس دوائی پر کوئی اعتراض نہیں پڑے گا کہ یہ خراب ہے مثلا کو نین ایک بڑی مقدار میں ایک حاملہ عورت کو دے دی جائے تو وہ اسے نقصان کرتی ہے تو اس سے کونین پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا کیونکہ یہ تو تشخیص کرنے والے کی غلطی ہے کہ اس نے مریض کی حالت کو نہ دیکھا۔پس اگر رحم کو بے موقعہ استعمال کرنے پر اس کا کوئی برانتیجہ نکلے تو یہ تشخیص کانقص ہے نہ کہ رحم کا کیو نکہ رحم تو ہر حال ایک عمدہ صفت ہے ہاں جب اسےغیرمحل استعمال کیا جائے گا تو ضرور اس سے نقصان ہو گا۔پس اس قسم کے نقصانوں سے خود رحم پر کوئی اعتراض نہیں پڑا تھا۔اور وہ بہرحال ایک عمدہ صفت ہے۔غرضکہ ہم دیکھتے ہیں کہ رحم انسانی سرشت میں ازل سے پڑا ہوا ہے۔اور رحم نہ کرنے والا اگر ظالم نہیں تو بخیل ضرور خیال کیا جاتاہے۔خدا تعالیٰ نے ہر ایک روحانی بات کا ایک پہلو اس دنیا میں دکھایا ہے تاکہ انسان اس کو دیکھ کرسمجھ سکے کہ اسی طرح وہ معاملہ بھی ہو گا۔اسی کے مطابق اپنے کاموں میں ہم دیکھتے ہیں کہ رحم کی صفت پر جب تک عمل نہ کیا جائے تو ہمارے اخلاق اپنا کمال حاصل نہیں کرتے چنانچہ عدل خود بھی ایک عمدہ صفت رحم کے ماتحت ہے یعنی جبکہ ہم کسی کو اس کا پورا بدلہ دیں تو وہ عدل کہلا تا ہے اورجب ہم اسے زیادہ دیں تو وہ احسان یا رحم کہلاتا ہے جیسے کہ ایک مزدور جو سارا دن کام کر تا رہا اورشام کو اسے آٹھ آنے مزدوری ملتی ہے اگر ہم اسے ایک روپیہ تو یہ ہمارارحم ہے اور احسان ہے اور اس فعل سے ہماری دنیا میں بدنامی نہیں ہوگی بلکہ شہرت ہوگی اور ہماری نیکی کی لوگ تعریف کریں گے یا ایک قرضدار جس نے ہمارا کھ روپیہ دینا ہے اگر ہم اس سے پورارو پیہ وصول کریں تو یہ ہمارا عدل ہو گا اور کوئی ہم پر اعتراض نہ کرے گا کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔لیکن اگر ہم اس کو روپیہ بخش دیں یا کم استطاعت پر خیال کر کے اس کو اور ڈھیل دید ہیں تو یہ ہمارار حم ہو گا۔اور اس پر ہم بد نام نہیں نیک نام ہوں گے اور خود اس شخص کے دل میں جو ہمارا مقروض ہے ہماری عزت اور محبت بڑھ جائے گی۔جیسا کہ قرآن شریف نے بھی اس مسئلہ کو خوب وضاحت سے بیان فرمایا ہے کہ ج وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَاۚ-فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَالشوری :۴۱) یعنی اس بات کی خدا تعالیٰ اجازت دیتا ہے کہ جس نے جس قدر بدی تم سے کی ہے اسی قدر اس کوسزادے لو۔لیکن اگر کوئی اصلاح سمجھ کر معاف کر دے تو وہ عند الله مأجور ہو گا۔اور خدا تعالیٰ کی