انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 196

اس لئے کہ شریعت کے عیب نہ کھل جائیں۔انسان انسانی نمونہ کا محتاج ہے باقی یہ بات کہ انسان کے لئے نمونہ چاہیے بالکل درست ہے مگروه آدمی چاہیے نہ کہ خدا۔کیا ہمیں معلوم نہیں کہ خدا پاک ہے پھر خدا ہم کو نمونہ کیا دکھائے گا اور کیا جو کام خدا کر سکے وہ بندہ بھی کر سکتا ہے اگر خدا نے ایک نمونہ دکھایا تو کیا ہوا ایک شخص اعتراض کر سکتا ہے کہ وہ خدا تھا اس نے وہ کام کر لئے میں بندہ ہوں مجھ سے نہیں ہو سکتے انسان پر حجت انسانی نمونہ کی ہو سکتی ہے نہ کہ خدا کے نمونہ کی۔خدا کو تو ہم پہلے ہی پاک جانتے ہیں اور اگر کہا جائے کہ خدا انسانی قالب میں آیا تھا اور انہیں طاقتوں کے ساتھ تو پھر یہ اعتراض ہو گا کہ جب اس میں وہی طاقتیں تھیں جو انسان میں ہوتی ہیں تو پھر اس میں اور انسان میں فرق کیا رہا۔بجائے اس کے کہ آپ عرش سے تشریف لاتے یہیں سے کوئی بنده چن لیا جاتا اور اس صورت میں یہودیوں کو اس بات پر فخر کرنے کا موقعہ بھی نہ رہتا کہ ہم وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے خدا کو مارا پیٹا اور سولی پر کھینچ دیا غرض کہ مسیح جو نجات کیلئے خداکے تجسم اور کفاره کے قائل ہیں یہ ایک لغو بات ہے۔مسیحیوں سے چار سوالچنانچہ میں اس مضمون پر کچھ اور لکھنے سے پہلے مسیحیوں سے کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ اول سب سے پہلے ثابت کیا جائےکہ خدا تین ہیں کیونکہ جب تک خدا تین ثابت نہ ہو جائیں تو نہ کفارہ رہتا ہے نہ نجات۔توریت میں تو ہے کہ ہمارے خدا کا شریک کوئی نہیں خروج باب ۸ آیت ۸ ایہودی اب تک اسی پر عمل کرتے ہیں الفاظ ان کی تائید کرتے ہیں دوم اگر تین خدا ہیں تو یسوع ہی وہ تیسراخداہے کیونکہ بیٹےکا لفظ بہتوں پر بولا گیا ہے آدمؑ کو بھی خدا کا بیٹا کہا گیا ہے اور اس کا کوئی باپ بیان نہیں کیا بلکہ ملک صدق تو سارے جہاں اور مسیحؑ سے زیادہ ہیں یسوع صرف اپنے آپ کو ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ حواریوں کو بھی خدا کا بیٹا قرار دیتا ہے بلکہ اپنے آپ کو تو ابن آدم ہی کہتا ہے پس یا تو حواری بھی خدائی میں ساتھ شریک ہیں یا مسیح بھی نہیں اور پھر ایک مشکل ہے کہ متی میں یسوع یوسف کا بیٹاقرار دیا گیا ہے جو اور بھی مشکل میں ڈالتا ہے ورنہ یہودی کمبخت بہت کچھ اعتراض کرتے ہیں مگرکچھ بھی ہو اناجیل سے یسوع کی خواہ کسی قدر عظمت ہی بیان کی جا وے ملک صدق کے برابر تو وہ ہرگز نہیں پہنچ سکتا کیونکہ جو صفات ملک صدق میں بیان کئے جاتے ہیں وہ اسے یسوع پر بہت کچھ فضیلت دیتے ہیں اور نہ صرف توریت میں بلکہ زبور میں اور پھر اعمال میں بھی اس کا ذکر کیا ہے