انوارالعلوم (جلد 1) — Page 150
نام مسلمان رکھا ہے۔اب کیا ان آیات سے یہ نکلتا ہے کہ ہر ایک مسلمان کے باپ کا نام ابراہیم ہوتاہے۔نہیں ہرگز نہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو حضرت ابراہیمؑ کی طرز پر کام کرتا اور ان کے بتائےہوئے راستہ پر چلتا ہے اور اسلام قبول کرتا ہے وہ خدا کے نزدیک ایسا ہے جیسے حضرت ابراہیمؑ کابیٹا۔ورنہ یہ بات ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ دنیا کی سینکڑوں قومیں ایسی ہیں جو اسلام میں داخل ہیں مگرحضرت ابراہیمؑ کی نسل سےنہیں اور نہ ان کی قوم کا حضرت ابراہیم ؑکے خاندان سے کوئی تعلق ہے پس جب خدا تعالیٰ نے ہر ایک اس شخص کو جو مسلمان ہو تا ہے۔اور خدا کی راہ میں کوشش کرتاہےحضرت ابراہیمؑ کا بیٹا قرار دیا اور بیٹے کے لفظ کو اس قدر وسیع کر دیا کہ بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل کی بھی کوئی شرط نہ رکھی تو پھر اگر آج اس خدا نے حضرت مسیح موعودؑ کی نسل میں سے کسی کو انہیں کا بیٹا قرار دیا تو کیا حرج ہے ؟ جبکہ آج میں کروڑ انسان جو مسلمان کہلاتے ہیں خواہ عرب کے رہنےوالے ہوں یا شام کے غرضیکہ ایران ، افغانستان ، ہندوستان ، چین ، جاپان کے علاوہ یورپ و امریکہ کے باشندے بھی حضرت ابراہیم ؑکے بیٹے کہلا سکتے ہیں اور خدا تعالیٰ قرآن شریف میں ان کو ابراہیمؑ کے بیٹے قرار دیتا ہے تو ایک شخص کو اگر حضرت مسیح موعودؑ کا بیٹا قرار دیا گیا تو کیا غضب ہوا پھر حدیث دیکھتے ہیں تو اس میں بھی بہت سے ایسے محاورات پاتے ہیں مثلا معراج کی رات جب آنخضرتﷺ نے جبرائیل علیہ السلام سے حضرت ابراہیم ؑکی نسبت پوچھا کہ یہ کون ہیں۔تو انہوں نے جواب میں کہاکہ ھذاابوک الصالح یعنی یہ تیرا نیک باپ ہے۔اور ایسا ہی حضرت آدمؑ کی نسبت فرمایا۔پس جب قرآن و حدیث سے یہ بات صاف ثابت ہے تو پھر حضرت اقدس ؑپر کیوں اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان کو ایک لڑکے کاوعدہ تھا جو پورا نہ ہوا۔خدا کے وعدے ٹلا نہیں کرتے اور وہ پورےہو کر رہتے ہیں۔اسی طرح یہاں بھی ہو گا۔ان الہامات سے یہ مراد نہ تھی کہ خود حضرت اقدسؑ سےلڑکا ہو گا بلکہ یہ مطلب تھا کہ آئندہ زمانہ میں ایک ایساشخص تیری نسل سے پیدا ہو گا جو خدا کےنزدیک گویا تیرا بیٹا ہو گا۔او ر و علاوہ تیرے چار بیٹوں کے تیرا پانچواں بیٹا قرار دیا جائے گا۔جیسے کہ حضرت عیسیٰ ابن داودؑ کہلاتے ہیں۔ایسا ہی وہ آپ کا بیٹا کہلائے گا اور اس میری بات کی تائید خودحضرت اقدسؑ کے اس الہام سے بھی ہوتی ہے جو میں اوپر درج کر آیا ہوں مین کفی هذا جس کےمعنی یہ تھے کہ حضرت اقدس ؑکے ہاں اب نرینہ اولاد نہ ہوگی۔چنانچہ اس کے بعد دو لڑکیاں ہو گئیں اور لڑکا کوئی نہیں ہوا۔اور خود حضرت اقدسؑ کا بھی یہی خیال تھا۔کیونکہ انہوں نے بھی ایک الہام جس میں بیٹے کی بشارت تھی اپنے پوتے پر لگایا تھا ورنہ اگر ان کو یہ خیال ہو