انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 141

کہ اب میری عمر ستر برس کے قریب ہے اور تین برس کی مدت گذر گئی کہ خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی کہ \" میری عمراسّی برس کی ہوگی اور یہ ہے کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم “۔پس اس جگہ سے بھی صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت اقدسؑ کی عمر ۱۳۲۳ھ میں ستر سال سےکچھ اور تھی۔اور اب ۱۳۲۶ھ میں ۷۴ سال کی ہوئی کیونکہ نصرة الحق میں یہ بات ۱۳۲۳ھ میں لکھی گئی تھی اور اس عبارت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اسی سال کی عمر سے الہام میں کیا مراد تھی اور اس کے معنی خدا تعالیٰ کے علم میں کیا تھے اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ ۷۴سے لے کر ۸۶سال کی عمر تک بھی جب حضرت اقدسؑ فوت ہوتے وہ پیشگوئی کی میعاردکے اندرہی ہو تا۔اس بات کو خود آپ نے کبھی اس کتاب میں آگے چل کر تشریح سے لکھا ہے کہ نہ خدا تعالیٰٰ کا یہ وعدہ ہے کہ میری عمراسّی سال سے ضرور زیادہ ہو جائے گی۔بلکہ اس بارے میں جو فقره وحی الہی میں درج ہے اس میں مخفی طور سے یہ امید دلائی گئی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ ٰ چاہے تو اسیّ برس سے بھی عمر کچھ زیادہ ہوسکتی ہے اور جو الفاظ وحی کے وعدے کے متعلق ہیں وہ تو ۷۴ سال اور ۸۶ سال کے اندر اندر عمر کی تعیین کرتے ہیں \" - ( یہ دونوں عبار تیں ضمیمہ براہین حصہ پنجم کے صفحہ۹۷ پر ہیں) اب اس عبارت کو پڑھ کر ہر ایک شخص غور کر سکتا ہے کہ حضرت اقدسؑ نے صاف طور سے لکھ دیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھ کو خبر دی ہے کہ تیری عمر اور ۷۴ اور ۸۶ سال کے درمیان ہوگی۔اور میں خود آپؑ کی ہی عبارتوں سے ثابت کر آیا ہوں کہ آپؑ کی عمروفات کے وقت ۷۴ بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ تھی۔پس اب کسی معترض کاکیاحق ہو سکتا ہے کہ اس قسم کا اعتراف کرے۔اور باوجود اس کے کہ پیشگوئی بڑے زور و شور سے پوری ہوئی اس پر نکتہ چینی کرے۔ہاںوہ جو خدا سے نہیں ڈرتے اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے باز رکھنے کے لئے تو ہمارے پاس کوئی ہتھیار نہیں اور نہ کسی بے شرم کا منہ بند کرنا ہمارا کام ہے۔مگر وہ جو خدا کی ہستی پر ایمان لاتے ہیں اور جزاء و سزا کے دن کا یقین رکھتے ہیں خدا کو حاضر و ناظر جان کر بتائیں کہ کیا حضرت اقدس ؑکی پیشگوئی لفظ لفظ پوری نہیں ہوئی اور کیا حضرت اقدسؑ خداکے الہام کے مطابق ۷۴ سال کی عمرپا کر فوت نہیں ہوئے۔خدا نے جو وعدہ اپنے مأمور سے کیا تھا پورا کیا اور اس کو اپنے قول کے مطابق عمردی۔اب اگر کسی کور چشم اور بد باطن انسان کو کلام ہے تو وہ ڈوئی کے اشتہار کو پڑھے اور نصرت الحق کو جو عنقریب شائع ہونے والی ہے دیکھے تو اس کو معلوم ہو جائے گا اور اس کا دل گواہی دے اٹھے گا کہ حضرت مسیح موعودؑ سے جو کچھ وعدہ کیا گیا تھاوہ کیسی صفائی سے پورا ہوا اور میں علاوہ حضرت اقدس ؑکی کتابوں کے