انوارالعلوم (جلد 1) — Page 134
تھا۔پس ناظرین جائے غور ہے کہ حضرت اقدسؑ پر دو طرح سے حملہ کیا گیا ہے۔ایک تو ایسے لوگوں نے حملہ کیا ہے جو یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے اور خدا سے دعا کی کہ وہ اس قانون کے مطابق سچے اورجھوٹے میں فرق کر کے دکھلائے۔اور امید ظاہر کی کہ چونکہ حضرت اقدس نعوذ باللہ جھوٹے ہیں۔اس لئے وہ ان کی زندگی میں ہلاک ہو جائیں گے۔اور چونکہ وہ سچے ہیں اس لئے وہ ان کے بعد تک زندہ رہیں گے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے ان کی دعا سنی اور فیصلہ کر دیا کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہےاور ان کو حضرت اقدس ؑکی زندگی میں ہلاک کیا اور ذلیل کیا۔اس کے بعد مولوی ثناء اللہ نے یہ رنگ بدلا کہ جو زیادہ عمرپا تا ہے۔پس خدا تعالیٰ نے اس کو اس کے قول کے مطابق ہی جھوٹاثابت کیا۔اور حضرت اقدسؑ کی سچائی پر مہرکی۔اور یہ اس لئے ہوا کہ جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں کہ کسی نبی کے آنے کا یہ مدعا نہیں ہو تاکہ وہ چند لوگوں کے مرنے کی پیشگوئیاں کر دے۔اور وہ پوری ہو جائیں یا یہ کہ چند اور غیب کی خبریں دے جو اسی طرح واقع ہوں بلکہ ان کی آمد کا اصل منشاءاصلاح ہوتی ہے۔چنانچہ اسی وجہ سے ان کے مخالفین پر کئی طریقوں سے اتمام حجت کی جاتی ہے۔اوردنیا پر اس رسول کی سچائی ثابت کی جاتی ہے۔پس اسی طرح حضرت اقدسؑ کے مخالفین سے ہوا۔ان کا انکار یا ہلاک کرتا بعثت کا اصل سبب نہیں تھا۔بلکہ ان کے ساتھیوں پر اور خود ان پر حجت قائم کرنے کے لئے انذاری پیشگوئیاں کی گئی تھیں یا اور طریق سے فیصلہ کیا گیا تھا۔اور اصل مقصدآپ کی بعثت کا اصلاح قومی تھا۔پس جب ثناء اللہ نے اور اس کے مریدوں نے ظاہر کیا کہ جھوٹے کولمبی عمر ملتی ہے۔تو خدا تعالیٰ نے اس گروہ پر حجت قائم کرنے کے لئے اسی طریق سے ان کو پکڑا تاکہ دنیا میں اصلاح کی صورت نظر آئے۔اب اگر کوئی کہے کہ اچھا پھر اتمام حجت تے نتیجہ کیا نکلا اور اس کا فائدہ کیا ہؤا۔جبکہ وہ اپنی ضد پر قائم رہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ سنت الہیہ اسی طرح ہے کہ پہلے ہر ایک سلسلہ حقہ کی مخالفت کی جاتی ہے اور بعد ازاں جب خوب اچھی طرح تبلغ ہو جاتی ہے۔اور لوگ الگ بیٹھ کر تمام واقعات پر تدبر کرتے ہیں تو ان کو سمجھ آ جاتی ہے کہ کون حق پر ہے۔اورکون جھوٹ کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔پس جبکہ کچھ عرصہ گذر جائے گا اور لوگ غور کریں گے تو خود بخودان پر اصل راز کھل جائے گا۔اور دوسرے ایسے لوگوں کا جواب وہی ہے جو وہ اس آیت کا دیتےہیں کہ لعلک باخع النفسک الا یکونوا مؤمنین (الشعراء:۴ )یعنی خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیاتو اپنی جان کو اس غم میں ہلاک کردے گا کہ یہ لوگ تیری بات نہیں مانتے اور ایمان نہیں لاتے۔پس جب نبی کریم ﷺجیسے عظیم الشان نبی کے اتمام حجت پر بھی لوگوں نے نہیں مانا اور اس کا ان کو