انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 132

وہ جو خدا پر افتراء کر تا ہے لمبی عمر نہیں پاتا۔اور صادق کو خداوند تعالیٰ بر خلاف | جھوٹوں کے دیر تک زندہ رکھتا ہے۔اور انہوں نے اس عقیدہ کو مد نظر رکھ کے خدا سے دعا کی کہ چونکہ تو جھوٹوں کو ڈھیل نہیں دیتا۔اور صادق کو نصرت دیتا ہے اس لئے جھوٹے پر تیری لعنت ہو اور جھوٹا سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جائے اور میں اسلام نے مباہلہ کا طریق رکھا ہے کہ لعنت الله على الكذبین کہہ دیں پس خداوند تعالیٰ نے ان کواسی راہ سے پکڑا اور ان کے قول کے مطابق ہی ان کو سزاری اور جس طریق پر وہ اس کے رسول کو جھوٹا کرنا چاہتے تھے خود ان کو جھوٹا ثابت کیا۔مگر اس کے بر خلاف ثناء اللہ اور اس کی پارٹی کا عقیدہ یہ تھا کہ جھوٹے کو لمبی عمرملتی ہے۔اور کاذب ڈهیل دیا جاتا ہے۔اور حضرت اقدسؑ کی دعا کے مقابل پر اہلحدیث ۲۶ اپریل ۱۹۰۷ء میں یہ شائع بھی کیا چنانچہ خدا نے اس کو ڈھیل دی۔اور اس کے اعتقاد کے مطابق اس پر اور اس کے چیلوں پر اتمام حجت کیا پس کیا یہ ایک صاف بات نہیں کہ ایک شخص کے بر خلاف جب چند آدمی یکے بعد دیگرے اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ تو جھوٹا ہے اور ہم سچے اور سچا جھوٹے کے مقابلہ پر فتح پاتا ہے اور جھو ٹا اس کی زندگی میں ہلاک کیا جا تا ہے۔تو وہ خود اپنی اپنی باری میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔اور اس کی سچائی پر مہر کر جاتے ہیں۔مگر ایک اور شخص اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ بات جھوٹ ہے کہ سچادیر تک زندہ رہتا ہے اور جو اس کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے بلکہ قرآن شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جھوٹے کو ڈھیل دی جاتی ہے۔اور وہ لمبی عمرپاتا ہے اور یہ اس کے کذّاب مفسد اور دغا باز ہونے کی نشانی ہوتی ہے اور اسکے بعد خدا تعالیٰ ایسے کہنے والے کو ڈھیل دیتا اور اس کے قول کے مطابق اس لئے اس کو زندہ رکھتا ہے کہ وہ شرارت میں حد سے بڑھ جائے۔اور گناہوں کو انبار در انبار اکٹھا کر لے تو کیا یہ اسی کے قول کے مطابق اس کے کذّاب اور مفسد ہونے کی دلیل نہیں؟ اس سے پہلے کئی بد بختوں نے یہ نسخہ آزمایا کہ جھوٹے سچوں کی زندگی میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔اوران کو خدا نے ذلیل و خوار کیا۔اور وہ سچے کے دیکھتے دیکھتے ہلاک ہوئے۔اور خدا کے رو برو سیہ رو ہوگئے اور اپنی بد بختی پر مہر لگا گئے۔اور اپنے جھوٹ کا ثبوت دے گئے لیکن ان کے بعد مولوی ثناء اللہ نے پہلے قول کے بر خلاف کہا کہ جھوٹے کی لمبی عمر ہوتی ہے۔پس خدا تعالیٰ نے سنسمہ علی الخرطوم (القلم: ۱۷) کے مطابق اس کو لمبی عمر دی اور اس کے ناک پر داغ لگایا اور اس کے زندہ رہنے نے اسی کے قول کے مطابق اس کو جھوٹا ودغا باز اور نافرمان قرار دیا۔اور حضرت اقدسؑ کی سچائی ثابت کی۔پس باوجود اس کے کہ اس شخص پر یعنی ثناء اللہ امرتسری پر خدا تعالیٰ نے ہر طرح حجت قائم کردی ہے۔اور ثابت کردیا ہے