انوارالعلوم (جلد 1) — Page 115
وفات دی جو تاریخ آپ کے الہام سے ثابت ہوتی ہے۔اب کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ پیچھے کیوں نہ فوت ہوئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایک تو آپ کو الہام ہو چکا تھا کہ ۱۵/ اکتوبر کے ۲۲۳ دن کےبعد آپ کی وفات ہو گی جو۲۶/ مئی بنتی ہے۔اور دوسرے یہ کہ عبدالحکیم ایک سیماب مزاج آدمی ہے اگر حضرت صاحب اور زندہ رہتے تو جھٹ کہہ دیتا کہ بجائے۲۱ ساون کے اب پھر تین سال والی میعاد ہو گئی ہے۔بلکہ کوئی تعجب نہ تھا کہ کہہ دیتا کہ اب دس سال ہو گئی ہے پس کیاخدااس بات کا ذمہ دار ہے کہ ان لوگوں کی بکواس کے مطابق ایک شخص کی عمر بڑھاتا ہی جائے۔پانچویں ولیل جومیں نے دی ہے وہ یہ ہے کہ اچھا بطور تنزّل ہم ان کے تمام اعتراضوں کو مان بھی لیتے ہیں پھر بھی حضرت اقدسؑ جھوٹے نہیں ٹھہرتے بلکہ ان کی سچائی ہر طرح ظاہر ہے کیونکہ اصل دارومدار فیصلہ کاالہام الٰہی پر ہوتا ہے۔پس جبکہ الہام الہی سے کہیں بھی یہ ظاہر نہیں ہو اکہ عبد الحکیم مرزا صاحب کی زندگی میں ہلاک ہو جائے گا تو پھر ان کی اجتہادی غلطی پر اس قدر زور دیا محض تعصب اور ضدہے۔کیونکہ جب الہی اجتہادی غلطیاں کل انبیائے کرام سے ہوتی رہتی ہیں اور قرآن شریف ان کا ذکر کرتا ہے اور احادیث میں ان کا بیان ہے تو پھر حضرت صاحب پر یہ اعتراض خصوصیت سے کس طرح آسکتا ہے ؟ اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھو اور اپنے دلوں کو ٹٹولو کیا وہ تم کو ایسا اعتراض کرنے پر ملامت نہیں کرتے جو صرف مرزا صاحب پر ہی نہیں بلکہ تمام نبیوں پر بھی وارد ہوتےہیں۔تم حضرت مسیح موعودؑ کی مخالفت میں اس قدر دیوانے کیوں ہو رہے ہو ذرا تحمل و صبر سے کام لو اور ٹھنڈے دل سے اس معاملہ پر غور کرو تو تم پر کھل جائے گا اور روز روشن کی طرح ظاہر ہوجائے گا کہ تم ایسے بے ہودہ اور لغو اعتراضوں سے صرف حضرت مسیح موعودؑ کا ہی انکار نہیں کرہے بلکہ آدم سے لے کر نبی کریمﷺ تک تمام نبیوں کی ہتک کرتے ہو۔اور ایسے کلمات تمہارے منہ سے نکلتے ہیں جن سے ان کا انکار لازم آتا ہے۔اور وہ جن کی عزت کرنا تمهارا فرض ہے اور جن کی تابعداری کرنا تمہارے لئے فخر کا باعث ہے انہیں پر اپنی بد زبانی کے تیر چلارہے ہو۔تم سمجھتے ہو کہ تم دین کی خدمت میں مصروف ہو مگر جس قدر ضرر دین کو تمہارے ہاتھوں سے پہنچ رہا ہے وہ بیان سے باہر ہے۔تم اپنی بیوقوفی کی وجہ سے اسی تنے کو کاٹ رہے ہو جس پر خودکھڑےہو۔اور دنیا کے لالچ اور عزت اور بڑائی کی خواہش نے تم کو دیوانہ بنا رکھا ہے اور تم اپنے نفع کےلئے دین کا نقصان کر رہے ہو اور جاہل اور نادان لوگوں کو اپنے فائدہ کی خاطر اس سچائی اور ہدایت کے سرچشمہ سے روک رہے ہو جو خدا نے ان کی حالتوں پر رحم کھا کر ظاہر کیا ہے۔خدا کا خوف