انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 99

بھی وہ اس کام کو کر کے چھوڑتا ہے۔اور وہ جو اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں آخر ہلاک ہوجاتے ہیں اور ایک دنیا ان کی ذلت اور تنہائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتی ہے۔اور وہ ہمیشہ نصرت اورفتح کے شہزادے کہلاتے ہیں۔اور ایک وقت مقررہ تک اپنا کام کر کے اور دنیا کو سیدھی راہ کھا کرپھر اپنے بھیجنے والے کی طرف چلے جاتے ہیں اور ان کے پیچھے ان کے متبعین اس کام کو پورا کرتےہیں۔اور خدا کی نصرت ان کے شامل حال ہوتی ہے ہیں جبکہ خدا تعالیٰ نے اپنی سنت قدیمہ کے ماتحت اس زمانے میں ایک نبی بھیجاتو کیونکر ممکن ہے کہ وہ اس کو بغیر مدد کے چھوڑ دے اور اس کی جماعت کو تباہ ہونے دے۔اگر وہ بھی اب ان میں نہیں رہا اور اپنا کام ختم کر کے اس دنیا سے عالم جاوداں کی طرف چلا گیا ہے تو کیا ہوا۔خداوند تعالیٰ جو حی و قیوم ہے ان کو ضائع ہونے نہیں دے گا۔کیو نکہ وہ اس کا لگایا ہوا پودا ہے۔تمام دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گی اور اس پر ثابت ہو جائے گا کہ خدا ہمیشہ سچے کا حامی ہو تا ہے۔پس وه مد عی جو اس وقت حضرت مسیح موعود ؑکی وفات پر شور مچاتے اوراس کو اپنی کرامت بتاتے ہیں دیکھ لیں گے کہ ان کا انجام کیا ہو تا ہے اور خداوند تعالیٰ ان سے کیاسلوک کرتا ہے۔کیا وہ سچوں کی طرح خدا کی طرف سے نصرت و مدد پاتے ہیں یا ہلاکت کا منہ دیکھتےہیں۔مگر وہ لوگ یاد رکھیں کہ جھوٹا کبھی فروغ نہیں پاسکتا۔اور آج اگر وہ سلامت ہے تو ضرور ہےکہ وہ کل ہلاک کیا جائے۔کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ خدا تعالیٰ جھوٹے کو بھی وہی مدد اور نصرت ہے جو سچوں کو دیتا ہے۔کیونکہ اگر ایسا ہو تو دنیا تباہ اور برباد ہو جائے اور خدا کا نام دنیا سے مٹ جائے اور کوئی نہ ہو جو کہہ سکے کہ سچائی اس طرف ہے اور خدا کے نبیوں کی پہچان کا کوئی طریقہ باقی نہ رہے۔پس میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ سچے اور جھوٹے کی بڑی شناخت یہی ہے کہ سچے کے ساتھ نصرت الٰہی او ر مدد خداوند ی شامل ہوتی ہے۔مگر جھوٹا باوجود اس کے کہ وہ اپنا تمام زور خرچ کرےاور تمام شیطانی فوجیں اس کے ساتھ ہوں وہ کبھی وہ نصرت اور فتح اور مقبولیت نہیں حاصل کر سکتاجو سچے کو خدا تعالیٰ کی طرف سے عنایت ہو تی ہے۔پس اے لوگو! تم نے حضرت مسیحؑ کی زندگی کو اوران کے حالات کو دیکھ لیا ہے اور وہ مدد اور نصرت جو خدا تعالیٰ نے ان کو بخشی ہے اس کا مشاہدہ کر لیا ہے اب کچھ مدت انتظار کرو اور ان جھوٹے مدعیوں کی زندگی کو بھی دیکھو اور کچھ زیادہ عرصہ نہیں گذرے گا کہ یہ لوگ تمہاری آنکھ کے سامنے بلا ک ہو جائیں گے۔اور ایسی ذلت ان کے حصہ میں آئے گی کہ ان کے طرف دار حضرت مسیح موعود ؑکے مقابلہ میں ان کا نام لیتے ہوئے شرمائیں گےاور یہ ایک ایسانشان ہو گا کہ اس کے بعد حضرت