انوارالعلوم (جلد 1) — Page 92
اور پھر آپ کی وصیت پر ہی بس نہیں ہوئی۔بلکہ اس کے شائع ہونے کے بعد بھی متواتر ان الہامات کا سلسلہ جاری رہا۔اور خدا تعالیٰ نے بار بار اپنے بندے کو اس بات کی اطلاع دی کہ اب تیرا وقت قریب آگیا ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ اہل بیت اور دیگر جماعت کی تسلی کے لئے بھی کلام الٰہی نازل ہوتا رہا۔چنانچہ مندرجہ ذیل الہامات اور رویائے صالحہ جو اس بارے میں ہوئےاختصار کے ساتھ یہاں بطور نمونہ درج کئے جاتے ہیں۔"رویا میں میں نے مولوی عبد الکریم صاحب کو دیکھا اور فوت شدہ خیال کر کے ان سے کہا کہ میری عمر اتنی ہو کہ سلسلہ کی تکمیل کے واسطے کافی وقت مل جائے۔اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحصیلدار - میں نے انہیں کہا کہ آپ غیر متعلق بات کیوں کرتے ہیں۔جس امر کے لئے کہا ہےاس کے لئے دعا کریں تو انہوں نے سینہ تک ہاتھ اٹھائے مگر آگے نہ اٹھائے۔اور کہا کہ اکیس۔اکیس۔اکیس اور یہی کہتے ہوئے چلے گئے۔اب اس خواب پر غور کرتے ہوئے ہر ایک صاحب سیرت رکھ سکتا ہے اور سمجھ سکتا ہے۔کہ حضرت اقدسؑ کے دعا کے لئے کہنے پر مولوی صاحب نےشرح صدر سے دعا نہیں کی۔کیونکہ ان کو خدا کی طرف سے علم دیا گیا تھا۔کہ جس قسم کی تکمیل حضرت اقدسؑ چاہتے ہیں وہ نہ تو انبیاء کی سنت سے ہے۔اور نہ آپ کو اتنی عمرملنی ہے۔اس لئےانہوں نے منہ تک ہاتھ اٹھانے کی بجائے سینہ تک ہاتھ اٹھا کر روک لئے اور اس بات کو خودحضرت اقدسؑ نے بھی محسوس کیا۔کیونکہ آپ نے خواب کو لکھتے ہوئے ذکر کیا ہے۔کہ مولوی صاحب نےسینے تک ہاتھ اٹھائے ہیں اور آگے نہیں اٹھائے۔پھر مولوی صاحب کا اکیس، اکیس۔اکیس کہنا ظاہرکرتا ہے۔کہ اکیس کا لفظ آپ کی تبلیغ کی عمر کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔کیونکہ آپ کا سوال مولوی صاحب سے یہ تھا کہ مجھ کو اتنی عمرملے کہ اللہ کی تبلیغ کے لئے کافی ہو اور اس کے جواب میں مولوی صاحب نے اکیس کا لفظ فرمایا ہے۔یعنی تمہاری اس تبلیغ کا وقت اکیس تک ہو گا۔چنانچہ واقعات کو دیکھنے سے اس خواب کی سچائی بڑے زور سے ثابت ہوتی ہے۔کیونکہ حضرت اقدس ؑکا اشتہار بیعت جمادی الاول ۱۳۰۶ھ میں شائع ہوا ہے۔اور اکیسویں سال اسی مہینے میں آپ کا انتقال ہوا۔اور اسی طرح ۱۸۸۸ء میں اشتہار بیعت نکلا - اور ۱۹۰۸ء میں وفات ہوئی۔جس سے اس خواب کی تعبیر خوب واضح ہوگئی کہ اس خواب سے یہ مراد تھی کہ اکیسویں سال آپ کی وفات ہو گی۔پس ہر ایک عقلمند اور دانا اس بات سے نصیحت پکڑ