انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 80

یاد رکھنا چاہئے کہ الہام ہی ایک ایسی چیز ہے جس سے کہ ہر ایک زمانہ کے لوگوں کادل تسلی پاسکتا ہے۔اگر کسی زمانہ میں امام ہو تا تھا تو آج کیوں نہیں ہوتاکیاخدا پچھلے زمانہ میں بولتا تھا اوراب نہیں بولتا کیا وہ کسی زمانہ میں سنتا تھا اور اب نہیں سنتا۔وہ کیا بات ہے جس کی وجہ سے وہ اب نہیں سنتا ہوتا؟ ایک طالب حق جو کہ دن رات اٹھتے اور بیٹھتے خدا تعالیٰ کی محبت ہی میں محو رہتا ہو اس کے لئےیہ کیسی کمر توڑ دینے والی بات ہے کہ خدا نے کسی زمانہ میں کلام کیا تھا مگروہ اب کسی سے کلام نہیں کر سکتا۔آخر اس کے لئے کوئی وجہ ہونی چاہئے تھی جب بولنا خدا کی صفت ہے تو کیا خدا کی صفات معطل بھی ہو جایا کرتی ہیں ؟ اگر معطل ہو جاتی ہیں تو خدا قادر مطلق اور ازلی ابدی کیونکر ہو سکتاہے۔اگر معطل نہیں ہوتیں تو اب وہ کیوں نہیں ہوتا؟ یہ سوال ہیں جو کہ ایک محقق کے دماغ میں فورا گونج اٹھتے ہیں جبکہ وہ یہ عقیدہ سنتا ہے اور اس کا جواب کوئی اور مذہب سوائے خاموشی کےاور کچھ نہیں دیتا مگر اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو کہ اس کا دندان شکن جواب دیتا ہے وہ کہتا ہےکہ جو لوگ سلسله الہام کو منقطع خیال کرتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں اس لئے یہ سوال ہی لغو ہے۔خدا بولتا تھا اور اب بھی بولتا ہے چونکہ یہ اس کی صفت ہے کہ وہ بولتا ہے اس لئے یہ معطل نہیں ہوسکی اور یہ اسلام کا دعوی ہی نہیں بلکہ اس کا عملی ثبوت بھی وہ دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر زمانہ میں مسلمانوں میں ایسے آدمی موجود رہتے ہیں جو الہام الہی سے مستفیض ہوتے ہیں اور ہر صدی کے سرپر ایک مجدد ہو تا ہے جو الہام کے جھٹلانے والوں کے ردّمیں ایک زندہ دلیل ہو تا ہے اور اس بات کے ثبوت کے لئے کہ آیا کسی شخص کو واقعی الہام ہوتا ہے یا نہیں خدا تعالیٰ نے یہ علامت رکھی ہےکہ ایسا شخص غیب کی خبریں بتاتا ہے اور وہ پوری ہوتی ہیں مگر اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ ہر ایک غیب اس پر ظاہر ہوتا ہے بلکہ میرا مطلب اس سے یہ ہے کہ بعض خبریں غیب کی خدا تعالیٰ پیش ازوقت بتاتا ہے تاکہ لوگوں کو اس بات کا ثبوت ہے کہ در حقیقت یہ شخص جھوٹا نہیں ہے بلکہ میری طرف سے ہے اور اس کا دعوی سچا اور بادلیل ہے مگر چونکہ غیب کی خبریں تو بعض دفعہ نجومی اورجوتشی بھی دیتے ہیں اور بعض اوقات دیکھا جاتا ہے کہ ان کی باتیں پوری ہو جاتی ہیں کیونکہ وہ ہرموسم میں کچھ نہ کچھ بکتے رہتے ہیں آخر کوئی نہ کوئی بات پوری ہونی ہی ہوگئی اور پھر یہ کہ ایک کہتاہے بارش ہوگی۔وو سرا کہتا ہے کہ نہیں ہو گی آخر ان دونوں میں سے ایک کی بات تو پوری ہو گی پس جس کی بات پوری ہو گئی اس کی دھاک بندھ گئی اس لئے خدا تعالیٰ نے اپنے پاک بندوں اور ان دنیاکے کیڑوں کے درمیان فرق رکھا ہے ایک تو یہ ہے کہ