انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 74

کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان جب سے پیدا ہوتاہے اس کو توحید کا سبق دیا جا تا ہے ایک بچے کے پیدا ہوتے ساتھ ہی اس کے کان میں اذان کی جاتی ہے جس میں کہ صاف طور سے ہے اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰــہُ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ سوائے خداکے اور کوئی معبود نہیں اور اس طرح گویا کہ بچہ کےکان میں اس وقت جبکہ وہ ابھی دنیا میں داخل ہی ہوا ہو تا ہے تو حید الہی کا کلمہ پھونکا جا تا ہے اور جس طرح جسمانی ترقیات کرنے کے لئے وہ پہلا قدم رکھتا ہے اسی طرح اس کو روحانی ترقیات کی طرف بھی بلایا جا تا ہے اور اس کے کانوں کو ان محبت کے الفاظ سننے کا مشتاق بنایا جا تا ہے جن کا سننا اس کی آئندہ روحانی ترقی کے کے لئے لازمی امر ہوتا ہے پھر ایک مسلمان کو دن میں کئی دفعہ خدا تعالیٰ کی وحید کا اقرار کرناپڑتا ہے ایک نماز میں ہی بیسیوں دفعہ اللہ کا نام لینا پڑتا ہے جو کہ شرک کا قاتل ہےاور نمازیں دن میں پانچ دفعہ پڑھنی پڑتی ہیں اور پھر ہر ایک نماز کے وقت اذان اور اقامت کہی جاتی ہیں جو کہ خود توحید کی تعلیم دینے والی ہیں پھر ہر شادی اور غمی کے موقع پر اور تعجب و حیرت کےموقعہ پر ہمارے لئے ایسے الفاظ مقرر کئے گئے ہیں جن سے کہ توحید کا مفہوم خوب اچھی طرح سےظاہر ہوتا ہے جیسا کہ خوشی کے وقت الحمدللہ کا کلمہ زبان پر لانا جس کے معنی ہیں کہ سب تعریف ہے واسطے اللہ کے اور اس طرح غم کے موقعہ پرانا لله و انا اليه راجعون (البقره:۵۷) کا کہنا جس کے معنے ہیں کہ ہم اللہ کے لئے ہی ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹیں گے پرتعجب و حیرت کےموقعہ پر سبحان الله کہنا یعنی پاک ہے اللہ پس ہمارے ہر کام میں اٹھتے بیٹھے توحید کا ذکر ہو تا ہے۔پھر جب ایک شخص اپنا پہلا مذہب چھوڑ کر مسلمان ہونے لگتا ہے اس وقت بھی اس سے یہی کلمہ کہلوایا جا تا ہے کہ اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰــہُ پس ان باتوں پر غور کرنے سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کی اس واحد خدا کی طرف سے ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے تب ہی تو اس میں توحید کا اس قدر لحاظ رکھا گیا ہے اور یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ دوسرے مذاہب نے توحید کو دنیا میں پھیلانے کے لئے کوئی وسائل اختیار نہیں کئے مگر اسلام نے کئے ہیں اور اللہ کا لفظ جو کہ بذات خودشرک کو رد کرنے والا ہے اسلام نے ہی استعمال کیا ہے اور سواے عربی کے اور کسی زبان ادب میں اس کا ہم معنی لفظ نہیں پایا جاتا اب چونکہ ہم اپنے اصل مدعا کو ثابت کر چکے ہیں اس لئےدوسری بات کر لیتے ہیں لیکن کفارہ کی نسبت اسلام نے ہم کو کیا بتایا ہے۔یہ بات پیچھے لکھی جا چکی ہے کہ کفارہ پر ہی عیسائیت کی عمارت کی بنیاد ہے اور اس مسئلہ کےمتعلق ہم کافی طور سے لکھ چکے ہیں کہ یہ کسی سچے مذہب کا عقیدہ نہیں ہو سکتا اور چونکہ ہم نے 1