انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 74

انوار العلوم جلد ۱۹ ۷۴ قومی ترقی کے دوا ہم اصول آ کر یہ کہے کہ میرا آپ کے سوا اور کوئی نہیں ہے اس کے لئے میرے دل میں بہت جوش پیدا ہوتا ہے۔پس جو آ کر کہتا ہے کہ میرا تمہارے سوا اور کوئی نہیں اس کے لئے دل میں درد پیدا ہو جاتا ہے مثلاً جب میں نے ڈاکٹر صاحب کی وفات کی خبر سنی تو مجھے ان کے بوڑھے والدین کا خیال کر کے سخت صدمہ ہوا اور میں نے خیال کیا کہ ان کا میرے سوا کوئی نہیں رہا اس لئے اس قدر درد اور سوز کے ساتھ میرے دل سے دعائیں نکلیں کہ اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر صاحب کو صحیح سلامت رکھ لیا۔پس کسی مقصد کے لئے یہ جان لینا ضروری ہوتا ہے کہ یہ کام صرف میں نے ہی سرانجام دینا ہے۔اللہ تعالیٰ کے مرسل جب آتے ہیں اُس وقت ہر شخص جو ان کی جماعت میں داخل ہوتا ہے یہ سمجھتا ہے کہ دین کا کام میرے سوا اور کسی نے نہیں کرنا جب وہ یہ سمجھ لے تو وہ اس کی انجام دہی کے لئے اپنی ساری قوتیں صرف کر دیتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ وہ مجنوں بن جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب فوت ہوئے تو میں نے اس قسم کی آوازیں سنیں کہ آپ کی وفات بے وقت ہوئی ہے ایسا کہنے والے یہ تو نہیں کہتے تھے کہ نَعُوذُ بِاللہ آپ جھوٹے ہیں مگر یہ کہتے تھے کہ آپ کی وفات ایسے وقت میں ہوئی ہے جبکہ آپ نے خدا تعالیٰ کا پیغام اچھی طرح نہیں پہنچایا اور پھر آپ کی بعض پیشگوئیاں بھی پوری نہیں ہوئیں۔میری عمر اس وقت اُنیس سال کی تھی۔میں نے جب اس قسم کے فقرات سنے تو میں آپ کی لاش کے سرہانے جا کر کھڑا ہو گیا اور میں نے خدا تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے دعا کی کہ اے خدا! یہ تیرا محبوب تھا جب تک یہ زندہ رہا اس نے تیرے دین کے قیام کے لئے بے انتہاء قربانیاں کیں اب جبکہ اس کو تو نے اپنے پاس بلا لیا ہے لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس کی وفات بے وقت ہوئی ہے ممکن ہے ایسا کہنے والوں یا ان کے باقی ساتھیوں کے لئے اس قسم کی باتیں ٹھوکر کا موجب ہوں اور جماعت کا شیرازہ بکھر جائے اس لئے اے خدا! میں تجھ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر ساری جماعت بھی تیرے دین سے پھر جائے تو میں اس کے لئے اپنی جان لڑا دوں گا۔اُس وقت میں نے سمجھ لیا تھا کہ یہ کام میں نے ہی کرنا ہے اور یہی ایک چیز تھی جس نے ۱۹ سال کی عمر میں ہی میرے دل کے اندر ایک ایسی آگ بھر دی کہ میں نے اپنی ساری زندگی دین کی خدمت پر لگا دی اور باقی تمام