انوارالعلوم (جلد 19) — Page 63
انوار العلوم جلد ۱۹ ۶۳ مصائب کے نیچے برکتوں کے خزانے مخفی ہوتے ہیں درد کے ساتھ دعا کرتے ہیں کہ اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِی فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ اے خدا! یہ مجھے پہچان نہیں سکے ورنہ یہ میرے ساتھ ایسا سلوک نہ کرتے۔میں کہتا ہوں کہ جنگ اُحد کا ایک یہی واقعہ ایسا ہے جو سنگ دل سے سنگ دل دشمن کی چیچنیں نکال دینے کیلئے کافی ہے اور بڑے سے بڑا دشمن اسلام اس واقعہ کوسن کر یہ پکا راٹھنے پر مجبور ہوتا ہے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جیسا با اخلاق انسان نہ ہوا ہے نہ ہوگا۔انگریزی ترجمہ القرآن کے دیباچہ میں اور مضامین کے علاوہ میں نے مختصراً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح عمری بھی لکھی ہے جس کا انگریزی اور گورمکھی کے علاوہ ہندی میں بھی ترجمہ کیا جا رہا ہے وہ ترجمہ اصلاح کے لئے پٹنہ بھیجا گیا تو ایک ہندو پروفیسر جن کے ذریعہ وہ دیباچہ بھیجا گیا تھا ان کی چٹھی آئی کہ اسے پڑھ کر میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو جاتے ہیں اور چونکہ ہمیں اس سے قبل ان واقعات کا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی کا علم نہ تھا اس لئے ہم اندھیرے میں رہے۔اگر کتاب چھپنے میں دیر ہو تو یہ مسودہ پہلے مجھے بھجوا دیا جائے۔پس یہ واقعہ تو گزر گیا اور اس کو گزرے سینکڑوں سال ہو گئے مگر اس کی یا د رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔یہ کتنا شاندار نشان ہے جو جنگ اُحد میں اللہ تعالیٰ نے دکھایا۔غرض ہر بلا کیں قوم را حق داده است زیر آن گنج کرم بنهاده است کتنی صحیح بات ہے۔یہ اتنا بڑا نشان ہے کہ ہم اس کو پیش کر کے دشمن کو منوا سکتے ہیں کہ اس واقعہ کے ساتھ تعلق رکھنے والا اخلاق فاضلہ کے کتنے اعلیٰ معیار پر قائم تھا اور اس سے دشمنی کرنا اس سے نہیں بلکہ خدا سے دشمنی کرنا ہے۔عشاء کی اذان کے بعد حضور کچھ دیر تک السید منیر الحصنی صاحب سے عربی میں گفتگوفر ماتے رہے اس کے بعد فرمایا: منیر الحصنی صاحب یہ ذکر کر رہے تھے کہ احمدیت کی وجہ سے مخالفت کے باوجود ان کے خاندان والے اہم کاموں کیلئے انہی کو اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں اور ان کے قبیلے کے لوگ ہر کام میں انہی کو آگے کرتے ہیں۔سید منیر الحصنی صاحب تو تعلیم یافتہ آدمی ہیں ہماری جماعت