انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 583 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 583

انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۸۳ مسلمانانِ بلوچستان سے ایک اہم خطاب لیا مگر جب ان کی بیوی نے مصافحہ کرنے کیلئے ہاتھ بڑھایا تو میں نے معذرت کر دی اور کہا کہ میں مصافحہ نہیں کر سکتا کیونکہ میرے مذہب نے عورت کے ساتھ مصافحہ کرنا جائز قرار نہیں دیا۔وہ آدمی بہت شریف تھے معذرت کرنے لگے کہ غلطی ہو گئی ہے۔دوسرے دن انہوں نے خاص طور پر ایک آدمی میری طرف بھیجوایا اور کہا کہ آج ساری رات میں نہیں سویا کیونکہ میری بیوی مجھے بار بار کہتی تھی کہ میری سخت ہتک کی گئی ہے۔گورنمنٹ آف انڈیا کے تمام بڑے بڑے افسر موجود تھے اور ان کے سامنے مجھے ذلیل کیا گیا ہے۔دوسری طرف مجھے بار بار خیال آتا تھا کہ آپ کیا کہیں گے کہ ہم سے یہ اتنے پرانے تعلقات رکھتا ہے مگر ابھی تک اسے ہمارا یہ مسئلہ بھی معلوم نہیں کہ ہم عورتوں سے مصافحہ کرنا جائز نہیں سمجھتے۔غرض انہی خیالات میں ساری رات گزر گئی کہ ادھر میری بیوی اپنی ہتک محسوس کر رہی ہے اور ادھر آپ بُر امنا رہے ہوں گے۔پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام کی بعض تعلیمیں ایسی ہیں جو موجودہ زمانہ کے لوگوں کو پسند نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کسی بچے مؤمن کے سامنے یہ دونوں پہلو رکھ دیئے جائیں تو وہ ان میں سے کس کو ترجیح دے گا۔ایک طرف لوگوں کے خوش یا نا خوش ہونے کا سوال ہے اور ایک طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خوش یا نا خوش ہونے کا سوال ہے۔لازماً اگر ہم سچے مسلمان ہیں تو خواہ لوگ ہم سے ناراض ہوں، خواہ وہ ہمیں اپنے نقطۂ نگاہ سے بدتہذیب قرار دیں ، ہمارا فرض ہوگا کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم پر عمل کریں اور اس امر کی پرواہ نہ کریں کہ لوگ ہمیں کیا کہتے ہیں اور میرا تجربہ یہ ہے کہ اگر لوگوں کو بتا دیا جائے کہ یہ اسلام کا ایک حکم ہے جس پر ہم عمل کرنے کے لئے مجبور ہیں تو سوائے ان کے جن کے دلوں میں تعصب بھرا ہوا ہوتا ہے عموماً بڑے طبقہ کے لوگ بُرا نہیں مناتے بلکہ وہ اسے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔انگلستان کے سفر میں بھی میں نے دیکھا ہے کہ جب بڑے طبقہ کے لوگوں کو اس بات کا علم ہو جاتا تھا کہ ہم عورتوں کی ہتک کے خیال سے نہیں بلکہ اسلامی حکم پر عمل کرنے کیلئے ان سے مصافحہ نہیں کرتے ، وہ قطعاً بُر انہیں مناتے تھے بلکہ ہمارے اس فعل کی تعریف کرتے تھے گوا ایسا بھی تھا کہ بعض لوگ پھر بھی بُرا مناتے تھے۔سر ٹامس آرنلڈ ھے جو علی گڑھ میں فلاسفی کے پروفیسر