انوارالعلوم (جلد 19) — Page 580
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۸۰ مسلمانانِ بلوچستان سے ایک اہم خطاب حزب الہی کے غلبہ کے اگر یہی معنی ہوں کہ ان کے پاس تو ہیں زیادہ ہوں گی تو وہ جیت جائیں گے یا آدمی زیادہ ہوں گے تو وہ جیت جائیں گے تو یہ کوئی عجیب بات نہیں رہتی۔ساری دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ جس کے پاس سامان زیادہ ہوتے ہیں وہ جیت جاتا ہے۔ایسی صورت میں حزب الہی میں شامل ہونے والوں کیلئے کوئی مَا بِهِ الْاِمتیاز قائم نہیں رہتا۔حقیقت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ہمارا حزب ہمیشہ غالب رہے گا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خواہ ان کے پاس ظاہری سامان کم ہوں گے تب بھی وہ ہماری تائید سے جیت جائیں گے اور جب سامان کی کمی یا ذرائع کا میابی کے فقدان کے باوجود اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ اس کا حزب دشمن پر غالب آئے گا تو یہ لازمی بات ہے کہ اس غلبہ کی ایسی ہی صورت ہوگی جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بدر اور اُحد کی جنگ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ملائکہ مسلمانوں کی تائید کے لئے نازل کئے۔کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور مسلمانوں کے ہاتھ ایسے مضبوط کر دیے کہ وہ زبر دست طاقت اور زیادہ تعدا د رکھنے والے دشمن پر غالب آ گئے لیکن خدا تعالیٰ کے نشانات کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم بھی اس قابل ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری تائید میں اپنے نشانات ظاہر کرے۔پس سب سے پہلی چیز جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ ہر مسلمان کے اندر پائی جانی چاہئے یہ ہے کہ اگر ہم سچے مسلمان ہیں تو ہمیں اپنی نگاہ آج سے تیرہ سو سال پیچھے لے جانی چاہئے۔اگر ہم اپنے گردو پیش کو دیکھ کر اور یہ اندازہ لگا کر کہ دنیا کی باقی قو میں کس طرح ترقی کر رہی ہیں خود بھی انہی کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں اور اس امر کو نظر انداز کر دیں کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کیا ہیں یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کیا ہدایات دی ہیں تو یقیناً ہمیں اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ خدا تعالیٰ نے مسلمانوں سے وہ وعدے کئے ہیں جو دوسری قوموں سے اس نے نہیں کئے اور جب مسلمانوں سے اللہ تعالیٰ کے ایسے وعدے ہیں جو دوسری قوموں سے نہیں تو لازماً ہمیں ایسے حالات پیدا کرنے پڑیں گے جن میں دوسری قو میں ہم سے مشترک نہ رہیں اور اس کی یہی صورت ہے کہ ہمارے آقا اور سردار حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو تعلیم لائے تھے اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔جس رنگ میں