انوارالعلوم (جلد 19) — Page 482
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۸۲ سیر روحانی (۴) اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے۔نئی نئی جماعتیں قائم ہو رہی ہیں اور وہاں کے نو مسلم اپنی قربانی اور اخلاص میں ترقی کر رہے ہیں تو پھر یہ رقم معمولی رقم نظر نہیں آتی یہ رقم یقیناً پچیس ہزار سے پچیس لاکھ ، پچیس لاکھ سے چھپیں کروڑ اور پچیس کروڑ سے چھپیں ارب بننے والی ہے۔إِنْشَاءَ اللہ تَعَالٰی۔ہالینڈ اور جرمن کے نو مسلم حضور نے اس امر پر بھی خوشی ظاہر فرمائی کہ ہالینڈ اور جرمنی کے نومسلموں میں دیگر ممالک کی نسبت تبلیغ اسلام کا بہت زیادہ جوش پایا جاتا ہے۔ان میں یہ خواہش بھی پائی جاتی ہے کہ وہ اپنا وطن چھوڑ کر یہاں آئیں اور یہاں پر اسلامی تعلیم حاصل کر کے واپس جائیں اور اپنے ملکوں میں تبلیغ کریں چنانچہ ایک جرمن نو مسلم جن کا اسلامی نام عبدالشکور رکھا گیا ہے ان کے متعلق اطلاع ملی ہے کہ اُن کے پاسپورٹ کا انتظام ہو رہا ہے اور وہ عنقریب تعلیم حاصل کرنے کیلئے یہاں آجائیں گے۔الفضل لا ہور۳۰ / مارچ ۱۹۴۸ء ) میری آج کی تقریر کا موضوع ”سیر روحانی ہے یہ میری اِس مضمون کی تقریروں کا چوتھا نمبر ہے۔ان تقریروں کا محرک میرا ایک سفر ہو ا تھا جو میں نے ۱۹۳۸ء میں کیا۔میں اس سال پہلے سندھ گیا وہاں سے کراچی ، کراچی سے بمبئی اور بمبئی سے حیدر آباد کا سفر کیا۔ہر جگہ کے دوستوں نے مجھے وہاں کی اہم اور قابل دید جگہیں دکھانے پر اصرار کیا اور چونکہ میری ایک بیوی، بیٹی اور ہمشیرہ بھی ساتھ تھیں، اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ یہ قدیم آثار خود بھی دیکھوں اور ان کو بھی دکھاؤں، خصوصاً حیدر آباد، آگرہ اور دتی کے پرانے آثار دیکھنے کا ہمیں موقع ملا۔جب ہم دلی پہنچے تو ہم غیاث الدین تغلق کا قلعہ دیکھنے کے لئے گئے یہ قلعہ ایک اونچی جگہ پر واقع ہے اور ٹوٹا ہوا ہے، لیکن سیٹرھیاں قائم ہیں میری ایک بیوی اور لڑکی اس قلعہ کے اوپر چڑھ گئیں۔میں اُس وقت نیچے ہی تھا اوپر چڑھ کر انہوں نے مجھے کہا کہ یہاں بڑا اچھا نظارہ ہے، ساری دتی اس قلعہ پر سے نظر آ رہی ہے آپ بھی آئیں اور اس نظارہ سے لطف اندوز ہوں۔میراسر چونکہ اونچائی پر چڑھنے سے چکرانے لگتا ہے اس لئے پہلے تو میں نے انکار کیا، لیکن پھر ان کے اصرار پر میں بھی اوپر چڑھ گیا اور میں نے دیکھا کہ واقعہ میں وہ ایک عجیب نظارہ تھا۔