انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 461

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۶۱ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں دکھا سکیں۔وہ آہی رہے تھے کہ حضرت معاذ کو سامنے سے اپنی ستر اسی سالہ بڑھیا ماں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آتی ہوئی دکھائی دی۔وہ پھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ بھاری بھاری قدم زمین پر مارتی ہوئی آرہی تھی کہ حضرت معاذ نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! میری ماں - يَا رَسُولَ اللہ ! میری ماں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میری اونٹنی کو کھڑا کرو کھڑا کر دیا گیا تو وہ عورت آگے بڑھی مگر چونکہ بڑھاپے کی وجہ سے اس کی نظر کمزور تھی اس نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں ؟ معاذ نے کہا اونٹ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تو ہیں۔اُس نے پھٹی پھٹی نظروں سے چاروں طرف دیکھنا شروع کیا اور آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اُس کی نظر گڑ گئی۔حضرت معاذ " چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پیارے تھے آپ نے فرمایا۔بی بی ! مجھے بہت رنج ہے کہ تمہارا نو جوان لڑکا جو اسلام کا بہت خادم تھا آج مارا گیا ہے۔اس نے پھٹی ہوئی آنکھوں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور کہا يَا رَسُولَ اللہ ! آپ بھی کیسی باتیں کر رہے ہیں۔آپ کو خدا خیریت سے لایا ہے اس وقت میرے بیٹے کی موت حیات کا کیا ذکر ہے۔۲۰ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام نے سات سال میں عرب میں تغیر پیدا کر دیا اور چند سالوں میں اس نے دنیا پلٹ دی۔مگر اسلام کی یہ کامیابی اور اسلام کی یہ فتح کس چیز کا نتیجہ تھی۔یہ نتیجہ تھی ان لوگوں کی جدوجہد کا جو رات اور دن اسلام کی خاطر قربانیاں کر رہے اور فصل لربك واحد کے حکم پر عمل کر رہے تھے۔کیا مرد اور کیا عورتیں ، کیا بچے اور کیا بوڑھے سب کے سب یہ سمجھتے تھے کہ اسلام کی زندگی ہی اصل زندگی ہے اور یہ کہ اسلام کی موت کے بعد ان کی زندگی کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔یہی چیز تھی جس نے ان کو فتح دی اور یہی چیز ہے جو آج بھی مسلمانوں کو فتح دلا سکتی ہے۔عمل اور صرف عمل ایک چیز ہے جس کا اسلام بنی نوع انسان سے مطالبہ کرتا ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کے بعد برکت ہی برکت نظر آنے لگتی ہے۔اسی جنگ کا ایک اور واقعہ ہے رسول کریم اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے بعد بعض لوگوں کو اس ڈیوٹی پر مقرر کیا کہ وہ دیکھیں کہ میدانِ جنگ میں کون کون زخمی پڑے ہیں اور جن کی مدد کی جاسکتی ہو ان کی فوری طور پر مدد کی جائے۔ایک صحابی اسی طرح پھر رہے تھے کہ انہوں