انوارالعلوم (جلد 19) — Page 337
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۳۷ الفضل کے اداریہ جات اعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ قادیان ، ننکانہ اور کشمیر میں کچھ دنوں کے لئے سندھ گیا ہوا تھا اس دورہ میں ایک ہفتہ کے قریب میں کراچی بھی ٹھہرا۔۱۹ تاریخ کو کراچی سے روانہ ہو کر ۲۰ / کی شام کو میں لاہور پہنچا۔۲۱ / تاریخ کے بعض اخبارات میں میں نے یہ مضمون پڑھا کہ جماعت احمدیہ قادیان اور ننکانہ کے تبادلہ کی کوشش کر رہی ہے اور یہ کہ اسی سلسلہ میں میں کراچی گیا تھا ایک اخبار نے اس طرف بھی اشارہ کیا تھا کہ گویا سرظفر اللہ خان نے مسٹر آئنگر ۳۷ کو یہ پیشکش کی ہے کہ وہ قادیان احمدیوں کو واپس دے دیں تو کشمیر کے معاملہ میں وہ ان سے سمجھوتہ کر لیں گے۔یہ باتیں اتنی مضحکہ خیز ہیں کہ عام حالات میں مجھے اس کے متعلق کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن چونکہ یہ ایام مسلمانوں کے لئے نہایت نازک ہیں اور دشمن چاہتا ہے کہ مسلمانوں میں اختلافات پیدا کر کے ان کی طاقت کو تو ڑا جائے اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ہر قسم کی بدظنی اور شبہات کو دور کرنے کیلئے میں حقیقت حال ظاہر کر دوں۔یہ بحث در حقیقت دو متضاد باتوں پر مبنی ہے اور ایک ہی وقت میں ان دونوں باتوں کا پیش کرنا ہی اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ یہ بات سرا سر غلط ہے۔اگر قادیان اور ننکانہ کے بارہ میں کوئی سمجھوتہ ہو رہا ہے تو کشمیر کے سوال کو اس میں گھسیٹنے کی کیا ضرورت تھی اور اگر قادیان کے بدلہ میں سر ظفر اللہ خان کشمیر فروخت کر رہے تھے تو پھر نکا نہ کا بیچ میں کیا سوال پیدا ہوتا ہے اور میرے کراچی جا کر قائد اعظم اور محترم لیاقت علی خان صاحب ۳۸ے سے ملنے کا کیا مطلب؟ دونوں باتوں میں سے ایک ہی صحیح ہوسکتی ہے دونوں تو صحیح نہیں ہوسکتیں۔