انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 258

انوار العلوم جلد ۱۹ الفضل کے اداریہ جات نمائی حکومت کی طرف سے حاصل نہ ہوئی ( گو ہمیں معلوم ہے کہ بعض دوسرے لوگوں نے پاکستان کے پریس کے ایک حصہ کے سامنے یہ حقیقت واضح کر دی تھی کہ اس قسم کی خبروں کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ دشمن ہوشیار ہو جائے گا اور پاکستان اور کشمیر کے افراد کے حو صلے بعد میں جا کر پست ہو جائیں گے ) پریس نے اپنے لئے خود ایک طریقہ انتخاب کیا جس کا نتیجہ ہمارے نزدیک ملک کیلئے مضر نکلا۔مگر بہر حال پریس پر کوئی الزام نہیں کیونکہ اُنہوں نے اپنے لئے ایک ایسا طریق اختیار کر لیا تھا جو اُن کی سمجھ میں ملک کے لئے مفید تھا۔ان کو تحریک کشمیر کے ذمہ دار افسروں کی طرف سے ایسی ہی اطلاعات پہنچتی رہی تھیں جن کی وجہ سے وہ کشمیر کے کام کو نہایت ہی معمولی سمجھتے تھے اور یہ خیال کرتے تھے کہ غالبا چند دن میں سارا کشمیر صاف ہو جائے گا بعد کے واقعات نے اس خیال کی تردید کر دی اور اب یہ معاملہ نہایت ہی پیچیدہ ہوتا چلا جاتا ہے۔یہ درست نہیں کہ یہ مسئلہ کا میاب طور پر حل ہی نہیں کیا جا سکتا یقینا یہ مسئلہ کا میاب طور پر حل کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ عقل اور سمجھ سے کام لیا جائے اور بشر طیکہ پاکستان کا مسلمان کشمیر کی تحریک چلانے والوں کی پوری طرح امداد کرے۔اب سردیاں آ رہی ہیں اور اگر کشمیر کی تحریک جاری رہی تو برف میں تحریک کشمیر کی فوجوں کو کام کرنا پڑے گا۔تحریک کشمیر میں کام کرنے والے لوگ برفانی علاقوں کے ہیں۔مظفر آباد، پونچھ ، ریاسی ، میر پور، کشمیر اور سرحدی قبائل کے لوگ سب برفانی علاقوں کے ہیں مگر باوجود اس کے وہ بغیر سامان کے ان علاقوں میں کام نہیں کر سکتے۔انہیں گرم جرابوں ، گرم سویٹروں، بوٹوں، پیٹوں اور بھاری کمبلوں کی ضرورت چند دن میں پیش آئے گی۔اگر چند دن میں یہ چیزیں ان تک نہ پہنچیں تو ان کے حوصلے پست ہو جائیں گے اور یہ امر ظاہر ہے کہ طبعی تقاضوں کا مقابلہ کوئی انسان نہیں کر سکتا۔بغیر کھانے کے سپاہی لڑ نہیں سکتا اور بغیر سردی گرمی کے مقابلہ کا سامان ہونے کے سپاہی لڑ نہیں سکتا۔ایک سپاہی سردی میں رات تو گزار سکتا ہے بلکہ متواتر راتیں گزار کر اپنی جان بھی قربان کر سکتا ہے مگر وہ تمام اخلاص اور تمام جذبہ ایثار کے با وجود اپنی صحت اور اپنی طاقت کو قائم نہیں رکھ سکتا۔ہر شخص جان سکتا ہے کہ ہمیں اس امر میں خوشی نہیں ہو سکتی کہ ہمارے افراد نے قربانی کر کے اپنی جانیں دے دیں۔ہمیں اگر خوشی ہو سکتی ہے تو اس بات میں کہ ان کی قربانی کے نتیجہ میں ہمارے بھائی آزاد ہو گئے اور یہ نتیجہ تبھی نکل سکتا ہے