انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 250

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۵۰ الفضل کے اداریہ جات لئے پندرہ بیس لاکھ کی فوج ضروری ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور اتنی فوج انگریز کے نزدیک پاکستان کبھی بھی نہیں رکھ سکتا تھا اس لئے انگریز چاہتا تھا کہ کسی طرح ہندو اور مسلمان اکٹھے رہیں اور ہندوستان تقسیم نہ ہو اور جب یہ نہ ہوا تو پھر اس نے یہ خواہش شروع کی کہ کسی طرح پاکستان کمزور ہو کر ہندوستان کیساتھ دوبارہ مل جانے کی طرف مائل ہو جائے۔چنانچہ یہ کھیل جاری ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کی ایک ہی صورت ہے کہ پاکستان کی اقتصادی حالت کو درست کیا جائے لیکن ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس کی طرف پوری توجہ نہیں کی جا رہی۔پاکستان کی سب سے بڑی صنعت اور اس کی دولت کا مدار کپاس پر ہے کپاس کے کارخانے اکثر ہندؤوں کے پاس تھے جو انہیں چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔یہ کارخانے اب تک مقاطعہ پر لوگوں کو نہیں دیئے گئے اور کپاس زمیندار چننے لگ گئے ہیں چونکہ زمیندار زیادہ دیر تک گھر میں جنس نہیں رکھ سکتا زمینداروں نے تنگ آ کر کپاس سستے نرخوں پر بیچنی شروع کر دی ہے اور چونکہ گاہک کو نہیں پتہ کہ کارخانہ کب شروع ہوگا اور آیا اسے کوئی نفع مل سکے گا یا نہیں وہ دبا کر بہت ہی سستے داموں پر کپاس لے رہا ہے۔اس وقت منٹگمری میں آٹھ روپے من، سرگودھا میں چار روپے من اور شیخو پورہ میں پانچ روپے من کپاس پک رہی ہے۔ظاہر ہے کہ ان حالات میں زمیندار کو اتنی رقم بھی نہیں ملے گی جتنی کہ اس نے گورنمنٹ کو بطور معاملہ ادا کرنی ہے۔ان پر یشان گن حالات میں جب کہ انسان پہلے ہی دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ اُٹھتا ہے اور دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ سوتا ہے اگر زمیندار پر ایسی تباہی آئی تو اس کے نتائج ہر شخص خود سمجھ سکتا ہے۔گزشتہ سال کپاس کی قیمت ۲۲ روپے کے قریب تھی گجا بائیس رو پید اور گجا سات آٹھ روپیہ دونوں قیمتوں میں کوئی بھی تو نسبت نہیں۔سندھ کے کارخانوں کو چلے ہوئے پندرہ بیس دن گزر چکے ہیں سینکڑوں بیلز وہ نکال چکے ہیں اور ان کی روئی منڈی میں جا رہی ہے۔وہاں اس سال بھی بائیس روپے من کپاس کی قیمت مل رہی ہے۔اب قیمتوں کے اس اختلاف کی وجہ سے نتیجہ یہ نکلے گا کہ یا تو سندھ کے روئی کے تاجر جو اس سال کثرت سے مسلمان ہونگے ، بالکل تباہ ہو جائیں گے کیونکہ اُنہوں نے بائیس روپیہ پر روئی خریدی ہوگی اور پنجاب کی قیمتیں منڈی کی قیمتوں کو گرا دیں گی یا پھر پنجاب کی روئی تاجر سستے داموں خرید کر بڑی قیمتوں پر نیچے گا اور ا