انوارالعلوم (جلد 19) — Page 198
انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۹۸ الفضل کے اداریہ جات نے تو سب محلوں کے احمدیوں کو زبردستی نکال دیا ہے اور سب اسباب لوٹ لیا ہے آپ ہمارے مکان خالی کرا دیں تو ہم رہنے کیلئے تیار ہیں تو اس پر افسر مجاز بالکل خاموش ہو گیا اور اس نے کوئی جواب نہ دیا۔در حقیقت وہ افسر خود تو دیانتدار ہی تھا لیکن وہ وہی کچھ رٹ لگا رہا تھا جو اسے اوپر سے سکھایا گیا تھا جب اس پر اپنے دعوی کا بودا ہونا ثابت ہو گیا تو خاموشی کے سوا اس نے کوئی چارہ نہ دیکھا۔شاید دل ہی دل میں وہ ان افسروں کو گالیاں دیتا ہوگا جنہوں نے اسے یہ خلاف عقل بات سکھائی تھی۔قادیان کے تازہ حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ لکڑی قریبا ختم ہے گندم بھی ختم ہو رہی ہے۔گورنمنٹ کی طرف سے غذا مہیا کرنے کا کوئی انتظام نہیں۔اب تک ایک چھٹانک آٹا بھی گورنمنٹ نے مہیا نہیں کیا۔عورتوں اور بچوں کو نکالنے کا جوانتظام تھا اس میں دیدہ دانستہ روکیں ڈالی جا رہی ہیں۔بارش ہوئے کو آج نو دن ہو چکے ہیں، بارش کے بعد قادیان سے دو قافلے آچکے ہیں۔اسی طرح قریباً روزانہ ہندوستانی یونین کے ٹرکس فوج یا پولیس سے متعلق قادیان آتے جاتے ہیں اور اس کے ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں۔چار تاریخ کو پولیس کا ایک ٹرک قادیان سے چل کر وا بگہ تک آیا۔تین تاریخ کو پاکستان کے اُن فوجی افسروں کے سامنے جو گورداسپور کی فوج سے قادیان جانے کی اجازت لینے گئے تھے ایک فوجی افسر نے آ کر میجر سے پوچھا کہ وہ ٹرک جو قادیان جانا تھا کس وقت جائے گا؟ پاکستانی افسروں کی موجودگی میں اس سوال کو سُن کر میجر گھبرا گیا اور اُس کو اشارہ سے کہا چلا جا اور پھر پاکستانی افسروں کو کہا اس شخص کو غلطی لگی ہے۔قادیان کوئی ٹرک نہیں جا سکتا۔چارہی تاریخ کو پاکستان کے جوٹرک قادیان گئے تھے اور اُن کو بٹالہ میں روکا گیا تھا انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ دو ملٹری کے ٹرک قادیان سے بٹالہ آئے۔سب سے کھلا ثبوت اس بات کے غلط ہونے کا تو یہ ہے کہ انہی تاریخوں میں جن میں کہا جاتا ہے کہ قادیان جانے والی سڑک خراب ہے ، پرانی ملٹری قادیان سے باہر آئی ہے اور نئی ملٹری قادیان گئی ہے کیا یہ تبدیلی ہوائی جہازوں کے ذریعہ سے ہوئی ہے یقیناً ٹرکوں کے ذریعہ سے ہوئی ہے۔پس یہ بہانہ بالکل غلط ہے اور اصل غرض صرف یہ ہے کہ قادیان کے باشندوں کو جنہوں نے استقلال کے ساتھ مشرقی پنجاب میں رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے