انوارالعلوم (جلد 19) — Page xv
انوار العلوم جلد ۱۹ (۸) پاکستان کا مستقبل تعارف کنند حضرت مصلح موعود نے پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے معا بعد پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پاکستان کا مستقبل کے موضوع پر بصیرت افروز لیکچرز دیئے۔جن میں لاہور کے بڑے بڑے دانشور، سکالرز اور اہل علم حضرات شامل ہوئے۔اور ان لیکچرز پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔پہلے پانچ لیکچر ز مینارڈ ہال لاہور اور چھٹا لیکچر یو نیورسٹی ہال لاہور میں ارشاد فرمایا۔زیر نظر لیکچر مؤرخہ ۷/ دسمبر ۱۹۴۷ء کو مینارڈ ہال لاہور میں ارشاد فرمایا مگر وقت کی کمی کے باعث اس مضمون کے کئی حصے بیان کرنے سے رہ گئے تھے۔لہذا حضرت مصلح موعود نے اپنی یادداشت پر اس مضمون کو افادہ عام کے لئے روز نامہ الفضل لا ہور میں شائع کروانے کی غرض سے تحریر فرمایا تھا جو مؤرخہ ۹ / دسمبر ۱۹۴۷ء کوروز نامہ الفضل لا ہور میں شائع ہوا۔حضور نے اپنے اس خطاب میں نباتی ، زرعی، حیوانی اور معنوی دولت کے لحاظ سے پاکستان کو کیسے ترقی دی جاسکتی ہے ، زریں تجاویز اور مشوروں سے نوازا۔(۹) خدا کے فرشتے ہمیں قادیان لے کر دیں گے حضرت مصلح موعود نے یہ مختصر خطاب جماعت احمدیہ کے جلسہ سالانہ ۱۹۴۷ء بمقام لاہور کے موقع پر مورخہ ۲۷/ دسمبر کو جلسہ کا افتتاح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔قادیان سے باہر جماعت احمدیہ کا یہ پہلا جلسہ سالا نہ تھا۔لہذا جن حالات میں یہ جلسہ منعقد ہو رہا تھا ان میں جذبات کا بے قابو ہونا قدرتی امر تھا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مصلح موعود کا یہ سارا خطاب قادیان سے محبت و عقیدت کے جذبات سے لبریز تھا اور بڑا ہی جذباتی اور رُلانے والا خطاب تھا۔حضور نے اس خطاب میں قادیان کے واپس ملنے کی توقع ظاہر کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔”ہمارا ایمان اور ہمارا یقین ہمیں بار بار کہتا ہے کہ قادیان ہمارا ہے وہ احمدیت کا مرکز ہے اور ہمیشہ احمدیت کا مرکز رہے گا۔( انشاء اللہ ) حکومت خواہ بڑی