انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 88

انوار العلوم جلد ۱۹ ۸۸ قومی ترقی کے دوا ہم اصول میں قادیان میں ایک شخص غلام مرتضیٰ کے گھر اولاد ہوتی ہے اور وہ اپنی اولا د پر زور دیتا ہے کہ وہ دین کی طرف نہ جائے بلکہ دنیا کمائے بلکہ وہ اپنے ایک بیٹے کا تو لوگوں کے سامنے شکوہ بھی کرتا ہے کہ یہ تو ملاں بن گیا ہے اور اس کو روزی کمانے کی ذرا بھی فکر نہیں۔اب عین وہ موقع آ جاتا ہے جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی نے پورا ہونا ہے لیکن ابھی تک کوئی آثار اس کے پورا ہونے کے نہیں پائے جاتے۔ایک لڑکا ایسے گھر میں پرورش پا رہا ہے جس میں دنیا داری ہی دنیا داری ہے، باپ اس کشمکش میں پڑا ہے کہ اس کے بیٹے نوکریاں کریں اور دنیا کمائیں لیکن اسی گھر میں ایک شخص کو یک لخت آواز آتی ہے کہ تو ہی وہ آدمی ہے جس کے متعلق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی ، تو ہی وہ موعود مسیح ہے جس کی خبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی ، تو ہی وہ مہدی ہے جس کے ذریعہ دنیا کی ہدایت مقدر ہے ، تُو ہی وہ فارسی النسل ہے جس کے متعلق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی کی تھی کہ اگر دین اسلام ثریا تک بھی پہنچ جائے گا تو وہ واپس لے آئیگا تو ہی وہ موعود اقوام عالم ہے جس کے متعلق ہر نبی نے خبر دی تھی۔اُٹھ اور تو حید کا علم بلند کر۔اب دیکھو ان دونوں باتوں میں کتنا فرق ہے ایک طرف تو یہ حالت ہے کہ مسز اپنی بسنٹ اس لڑکے کو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلاتی ، اس کے اتالیق مقررہ کرتی ہے، اُس پر نگران رکھتی ہے اور اُس پر ہزاروں روپیہ خرچ کرتی ہے اور کہتی ہے یہ دنیا کی اصلاح کرے گا اور اس کے لئے خالص علمی ماحول پیدا کرتی ہے مگر جب وہ بڑا ہوتا ہے تو وہ سرے سے خدا کا ہی انکار کر دیتا ہے۔دوسری طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ عربوں سے باہر غیر قوم میں سے خدا تعالیٰ ایک شخص کو دین کی تجدید اور اس کے احیاء کے لئے چنے گا اور دین اور ایمان خواہ آسمان پر اڑ جائے وہ آسمان پر پہنچے گا اور پھر اُس کو لا کر دنیا میں قائم کر دے گا آپ اس خاندان کے متعلق پیشگوئی فرماتے ہیں جو اس وقت مسلمان ہی نہیں اور وہ خدا اور مذہب کا بھی منکر ہے۔کچھ عرصہ کے بعد وہ خاندان مسلمان ہوتا ہے مگر دُنیوی فوائد کے پیش نظر۔اور متواتر تیرہ سو سال تک اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے مگر عین اُس وقت جب پیشگوئی کے پورا ہونے کا زمانہ آتا ہے ایک کو ردیہ ملے میں ایک چھوٹی سی غیر معروف بستی میں