انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 84

انوار العلوم جلد ۱۹ ΔΙ قومی ترقی کے دوا ہم اصول لگ جائے کہ اس کا حکم تو خدا نے دیا ہے مگر یہ میرے لئے مفید نہیں ہے تو ایسے شخص کو ہر کوئی پاگل سمجھے گا کیونکہ اُس کا یہ کہنا تو درست ہو سکتا ہے کہ میں خدا کو نہیں مانتا یا خدا نے یہ حکم مجھے نہیں دیا تھا بلکہ میں نے اپنے ارادہ سے اس مقصد کو اپنے سامنے رکھا تھا اور اب اسے چھوڑ رہا ہوں لیکن خدا تعالیٰ کے وجود کو مانتے ہوئے اور کچھ عرصہ پہلے یہ کہتے ہوئے کہ اس مقصد کے لئے خدا نے مجھے حکم دیا ہے بعد میں کہہ دینا کہ یہ میرے لئے مفید نہیں ہے بالکل پاگل پن کی بات ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف کسی مقصد کو منسوب نہ کرتے ہوئے بلکہ اپنے ارادہ کی طرف منسوب کر کے اسے چھوڑ دینے والے کو غلطی خوردہ تو کہہ سکتے ہیں پاگل نہیں کہیں گے لیکن جو شخص کہے کہ ہے تو خدا ہی کی طرف سے لیکن یہ غلط ہے اُس کو ہر کوئی پاگل سمجھے گا اور اس بات کو کوئی شخص درست تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہو گا کہ وہ خدا کی طرف سے بھی ہو اور غلط بھی ہو۔خدا تعالیٰ کو کامل علیم و خبیر اور مقتدر ہستی تسلیم کرتے ہوئے اور اُس کی ذات کو محیط گل مانتے ہوئے یہ کہنا کہ اُس نے غلط بات کہہ دی ہے سوائے کسی پاگل اور مجنون کے اور کسی انسان کا کام نہیں۔پس جو لوگ خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں مقصد کے لئے خدا نے ہمیں حکم دیا ان کے متعلق اس امر کا امکان ہی نہیں ہو سکتا کہ بعد میں وہ کہہ دیں کہ یہ ہے تو خدا کی طرف سے مگر ہے غلط لیکن جو لوگ خود اپنے لئے کوئی مقصد تلاش کر لیتے ہیں اور اس کو خدا کی طرف منسوب نہیں کرتے اور بعد میں اسے چھوڑ نا چاہیں یا بد لینا چاہیں تو وہ چھوڑ بھی سکتے ہیں اور بدل بھی سکتے ہیں۔ایسے لوگ تعلیم حاصل کرتے کرتے یکدم چھوڑ دیتے ہیں اور سیاسیات میں حصہ لینا شروع کر دیتے ہیں یا پھر ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص سیاسیات میں حصہ لیتے لیتے یکدم اسے چھوڑ دیتا ہے۔جیسے گاندھی جی کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے کہ سیاست کرتے کرتے انہوں نے یکدم پہلو بدلا اور کہا میں تو اب چرخہ ہی کا توں گا سیاست سے میں نے کنارہ کشی کر لی ہے اور چاہے وہ سنجیدگی کے ساتھ کہتے ہیں یا بناوٹ کے ساتھ وہ فخر کے ساتھ کہا کرتے ہیں کہ میں تو کانگرس کا چار آنے کا ممبر بھی نہیں ہوں۔اسی قسم کی اور بھی ہزاروں مثالیں دنیا میں پائی جاتی ہیں کہ لوگوں نے ایک کام کرتے کرتے دوسرا اختیار کر لیا اور اس کی وجہ صرف یہی ہوتی ہے کہ ان کو وہ مقصد اس ہستی کی طرف سے نہیں دیا گیا ہوتا جس کے متعلق غلطی کا امکان نہیں صرف ان کی اپنی عقل نے ان کو