انوارالعلوم (جلد 19) — Page 80
انوار العلوم جلد ۱۹ ۸۰ قومی ترقی کے دو اہم اصول ایک مثال موجود ہے ایک دفعہ ایک یہودی جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ قرض لیا تھا اور پھر آپ نے اسے ادا بھی کر دیا تھا آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا آپ نے مجھ سے کچھ قرض لیا تھا جو ابھی تک ادا نہیں کیا آپ نے فرمایا وہ تو میں نے ادا کر دیا ہوا ہے۔یہودی کو تو یہ خیال تھا کہ خواہ میں اپنا قرض واپس لے چکا ہوں مگر جب میں لوگوں کے سامنے آپ سے پھر مانگوں گا تو اس وجہ سے کہ قرض کی واپسی کے وقت کوئی گواہ موجود نہ تھا آپ گھبرا کر دوبارہ مجھے روپیہ دے دیں گے مگر آپ نے فرمایا کہ میں نے تمہارا قرض واپس کر دیا تھا۔اُس نے پھر اصرار کیا اور کہا کہ آپ کو یاد نہیں رہا میرا قرض آپ نے ابھی تک واپس نہیں کیا۔اس پر ایک صحابی کھڑے ہو گئے انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے قرض ادا کر دیا ہوا ہے۔اس سے یہودی ڈر گیا اور کہنے لگا ہاں اب مجھے یاد آ گیا ہے کہ آپ نے قرض واپس کر دیا تھا جب یہودی چلا گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی سے فرمایا مجھے تو یہی یاد پڑتا ہے کہ جب میں نے اُس کا قرض واپس کیا تھا تو ہم دونوں کے سوا اور کوئی آدمی پاس نہ تھا تم نے کیسے گواہی دے دی ؟ اس صحابی نے عرض کیا يَا رَسُولَ الله! آپ ہر روز ہمیں فرماتے ہیں کہ آج خدا تعالیٰ نے مجھے یہ کہا اور آج یہ کہا اور ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کی ہر بات سچی ہوتی ہے۔تو جب آپ یہ فرما رہے تھے کہ میں نے قرض ادا کر دیا ہے تو میں اس بات کو کیوں سچ یقین نہ کرتا۔پس جب صحابہ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتنا یقین تھا جو ایک بشر تھے تو جب خدا تعالیٰ ہم سے کہتا ہے کہ تم مرو گے تو ہمیں کیوں نہ یقین آئے گا ہمیں تو خدا تعالیٰ پر بہت زیادہ یقین ہونا چاہئے اور ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ جس دن ہم اس رنگ میں اپنی قربانیاں خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر دیں گے ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے دن دُگنی اور رات چوگنی ترقی کرنے لگ جائے گی۔پس یقین کر لو کہ اس مقصد سے بڑھ کر اور کوئی مقصد نہیں جو ہمارے سامنے رکھا گیا ہے جب ہم اس مقصد پر قائم ہو جائیں گے تو ہم کبھی نا کام نہیں رہ سکتے کیونکہ جب خدا تعالیٰ نے کہہ دیا ہے کہ تم نے کامیاب ہو جانا ہے تو اس میں شبہ کرنے والا مؤمن نہیں کہلا سکتا یہ یقین قوم کے اندرا ایسا جوش، جذ بہ اور ولولہ پیدا کر دیتا ہے کہ دوسرے لوگ مؤمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں