انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 43

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۳ خوف اور امید کا درمیانی راسته ہم تم پر احسان نہیں کر رہے بلکہ چونکہ تم نے ہماری قومیت میں شریک ہونے کی وجہ سے دُکھ اُٹھایا ہے اس لئے ہم تمہاری مدد کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔اس قسم کا نظارہ پیش کرنے سے ایک طرف تو مسلمانوں کے حوصلے بڑھ جاتے اور دوسری طرف دشمن مرعوب ہو جاتا اور وہ سمجھ لیتا کہ اگر امرتسر کے مسلمانوں پر کوئی ظلم ہوا تو پنجاب کے لاکھوں کروڑوں مسلمان اس کا بدلہ لینے کا عزم کر چکے ہیں دشمن کے حوصلہ پست ہو جاتے اور وہ کبھی دوسری بارمسلمانوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھ سکتا لیکن نہایت افسوس کی بات ہے کہ مسلمانوں نے اس طرف تو کچھ بھی دھیان نہ کیا اور صرف بڑیں ہانکنی شروع کر دیں کہ ہم مٹا کر رکھ دیں گے یا ہم تباہ کر کے رکھ دیں گے۔جیسے آجکل کے گدا گر فقیر جہلاء کے سامنے دعوئے کرتے پھرتے ہیں کہ ہم چودہ طبقوں کو اُلٹا کر رکھ دیں گے حالانکہ ان کی اپنی حالت یہ ہوتی ہے کہ سر سے ننگے، پاؤں سے ننگے ، روٹی کے ایک ایک ٹکڑے کیلئے در بدر مارے مارے پھرتے ہیں مگر دعوی وہ یہ کرتے ہیں کہ ہم زمین و آسمان کو درہم برہم کر سکتے ہیں اگر وہ اتنے ہی اپنے دعوؤں میں سچے ہوتے تو در بدر کی خاک کیوں چھانتے پھرتے۔ایک دوست جو مریض تھے میری ملاقات کے لئے آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ ہمارے ہاں ایک مولوی صاحب ہیں جو بڑے عالم فاضل ہیں میرے باپ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ اگر آپ حج کے لئے گئے تو میں آپ کو پانچ سو روپیہ دوں گا مگر جب وہ حج کو گئے تو والد صاحب نے کسی وجہ سے وعدہ پورا نہ کیا اور وہ مولوی صاحب سخت ناراض ہو گئے اس کے بعد والد صاحب نے میرے لئے تجارت کا انتظام کیا جب میرے پاس مال ہوا تو میں نے اپنے باپ کے وعدے کو پورا کرنے کے لئے مولوی صاحب کو پانچ سو روپے دیتے ہوئے کہا لیجئے میرے والد صاحب تو اس وعدہ کو پورا نہ کر سکے تھے اب میں آپ کو وہ روپیہ دیتا ہوں۔مولوی صاحب نے روپے لے لئے اور صدری میں رکھے جس میں اُن کی ایک گھڑی بھی تھی مگر اتفاق ایسا ہوا کہ وہ صدری چوری ہوگئی اور نہ صرف میرا دیا ہوا پانچ سو روپیہ ضائع چلا گیا بلکہ ان کا اپنا کچھ روپیہ اور گھڑی بھی چوری ہو گئی۔اس پر مولوی صاحب نے مجھے کہا تم نے کیسا منحوس رو پیہ دیا تھا کہ وہ میرا بھی کچھ روپیہ ساتھ لے کر جاتا رہا۔اب ان مولوی صاحب نے خدا جانے کیا