انوارالعلوم (جلد 19) — Page 584
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۸۴ مسلمانانِ بلوچستان سے ایک اہم خطاب رہے ہیں اور جو نیم مسلمان تھے اُنہوں نے تو اتنی مخالفت کی جس کی حد ہی نہیں۔وہ لڑکوں کو کہیں کہ یہ بالکل جھوٹ ہے کہ اسلام نے عورتوں سے مصافحہ کرنا نا جائز قرار دیا ہے۔میں جب کسی مجلس میں جاتا اور وہ اس میں موجود ہوتے تو اُٹھ کر چلے جاتے اور کہتے کہ یہ عورتوں کی ہتک کرتے ہیں۔ایک دفعہ کچھ طالب علم آئے اور اُنہوں نے کہا کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ اسلام میں عورتوں سے مصافحہ کرنا نا جائز ہے؟ میں نے کہا کتا بیں تو ہم اپنے ساتھ نہیں لائے مگر یہاں لائبریری موجود ہے اور اس میں ایسے حوالے دیکھے جا سکتے ہیں۔چنانچہ میں نے بخاری منگوائی اور اس میں سے حوالہ نکال کر بتایا کہ یہ حدیث موجود ہے۔جس میں وضا حنا ذکر آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی عورت سے مصافحہ نہیں کیا مگر اس کے باوجود ان کی مخالفت قائم رہی حالانکہ اُس وقت میرے ساتھ جو سیکرٹری تھے اور جو مولا نا محمد علی اور مولانا شوکت علی کے بڑے بھائی تھے ان کے ساتھ ان کے گہرے تعلقات تھے۔ان کی بیوی نے اُنہیں بیٹوں کی طرح پالا ہوا تھا اور چونکہ وہ انہیں بچوں کی طرح سمجھتی تھیں اس لئے جب یہ گئے تو وہ ان کے ساتھ چمٹ گئیں اور کہنے لگی کہ تم تو میرے بچے ہو مگر با وجود اس کے کہ ایسے سیکرٹری میرے ساتھ تھے جن کے ان کے ساتھ بہت گہرے تعلقات تھے پھر بھی جب میں کسی مجلس میں جاتا تو وہ اُٹھ کر بھاگ جاتے۔غرض ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اسلامی تعلیم اور اسلامی قانون اپنے نفس پر جاری کرنے کی کوشش کریں اس کے بغیر ہمیں کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔آجکل عام طور پر لوگوں میں یہ چر چا پایا جاتا ہے کہ پاکستان میں اسلامی آئین نافذ ہونا چاہئے مگر میری سمجھ میں یہ بات کبھی نہیں آئی کہ اسلامی آئین کے نفاذ سے ان کی کیا مراد ہے؟ اصل سوال جو ہر فرد کے لئے قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی آئین میرے لئے ہے یا نہیں؟ جب اسلامی آئین ہر مسلمان کیلئے ہے تو مسلمان افراد اسلامی آئین پر خود عمل کیوں نہیں کرتے۔کیا پاکستان میں کوئی ایسا قانون ہے کہ نماز نہ پڑھو؟ یا پاکستان میں کوئی ایسا قانون ہے کہ شریعت اسلامیہ کے اور احکام پر عمل نہ کر و؟ جب نہیں تو مسلمان اگر بچے دل سے اسلامی آئین کے نفاذ کے خواہشمند ہیں تو وہ نمازیں کیوں نہیں پڑھتے ؟ وہ اسلامی احکام پر عمل کیوں نہیں کرتے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان