انوارالعلوم (جلد 19) — Page 572
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۷۲ الكفُرُ مِلَّة وَاحِدَةً وآلہ وسلم کو شہریت کے حقوق دیتا ہوں۔اپنے پانچوں بیٹوں سمیت آپ کے ساتھ مکہ میں داخل ہوا اور اپنے بیٹوں سے کہا کہ محمد ہمارا دشمن ہی سہی پر آج عرب کی شرافت کا تقاضا ہے کہ جب وہ ہماری امداد سے شہر میں داخل ہونا چاہتا ہے تو ہم اس کے مطالبہ کو پورا کریں ورنہ ہماری عزت باقی نہیں رہے گی اور اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ اگر کوئی دشمن آپ پر حملہ کرنا چاہے تو تم میں سے ہر ایک کو اس سے پہلے مر جانا چاہئے کہ وہ آپ تک پہنچ سکے لے یہ تھا عرب کا شریف دشمن۔اس کے مقابلہ میں بدبخت یہودی جس کو قرآن کریم مسلمان کا سب سے بڑا دشمن قرار دیتا ہے اس نے رسول کریم ﷺ کو اپنے گھر پر بلایا اور صلح کے دھوکا میں چکی کا پاٹ کو ٹھے پر سے پھینک کر آپ کو مارنا چاہا۔خدا تعالیٰ نے آپ کو اس کے منصوبہ کی خبر دی اور آپ سلامت وہاں سے نکل آئے کے یہودی قوم کی ایک عورت نے آپ کی دعوت کی اور زہر ملا ہوا کھانا آپ کو کھلایا آپ کو خدا تعالیٰ نے اس موقع پر بھی بچا لیا سکے مگر یہودی قوم نے اپنا اندرونہ ظاہر کر دیا۔یہی دشمن ایک مقتدر حکومت کی صورت میں مدینہ کے پاس سر اُٹھانا چاہتا ہے شاید اس نیت سے کہ اپنے قدم مضبوط کر لینے کے بعد وہ مدینہ کی طرف بڑھے۔جو مسلمان یہ خیال کرتا ہے کہ اس بات کے امکانات بہت کمزور ہیں اُس کا دماغ خود کمزور ہے۔عرب اس حقیقت کو سمجھتا ہے عرب جانتا ہے کہ اب یہودی عرب میں سے عربوں کو نکالنے کی فکر میں ہے اس لئے وہ اپنے جھگڑے اور اختلاف کو بھول کر متحدہ طور پر یہودیوں کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہو گیا ہے مگر کیا عربوں میں یہ طاقت ہے؟ کیا یہ معاملہ صرف عرب سے تعلق رکھتا ہے؟ ظاہر ہے کہ نہ عربوں میں اس مقابلہ کی طاقت ہے اور نہ یہ معاملہ صرف عربوں سے تعلق رکھتا ہے۔سوال فلسطین کا نہیں ، سوال مدینہ کا ہے، سوال یروشلم کا نہیں سوال خود مکہ مکرمہ کا ہے۔سوال زید اور بکر کا نہیں سوال محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت کا ہے۔دشمن با وجود اپنی مخالفتوں کے اسلام کے مقابل پر اکٹھا ہو گیا ہے، کیا مسلمان با وجود ہزاروں اتحاد کی وجوہات کے اس موقع پر اکٹھا نہیں ہوگا۔۔ہمارے لئے یہ سوچنے کا موقع آگیا ہے کہ کیا ہم کو الگ الگ اور باری باری مرنا چاہئے یا اکٹھے ہو کر فتح کیلئے کافی جدو جہد کرنی چاہئے۔میں سمجھتا ہوں وہ وقت آ گیا ہے جب مسلمانوں کو یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ یا تو وہ ایک آخری جدو جہد میں فنا ہو جائیں گے یا گلی طور پر اسلام کے